حدیث نمبر: 9508
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ الْغُزَاةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَادِمُهُمْ ، ثُمَّ الَّذِي يَأْتِيهِمْ بِالْأَخْبَارِ ، وَأَخَصُّهُمْ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ الصَّائِمُ ، وَمَنِ اسْتَقَى لِأَصْحَابِهِ قِرْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَبَقَهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ سَبْعِينَ دَرَجَةً أَوْ سَبْعِينِ عَامًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ مِهْرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا شخص ان کا خادم ہوتا ہے پھر وہ شخص ہوتا ہے ، جو ان کے پاس ( دشمن کی ) اطلاعات لے کے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے زیادہ خاص روزہ دار ہوتا ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں کے لئے ایک مشکیزہ لے کے آئے وہ ان لوگوں کے مقابلے میں جنت کی طرف ستر درجہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر سال کی سبقت لے جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن مہران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن مہران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔