کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پہریداری کا بیان
حدیث نمبر: 9494
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رِبَاطُ يَوْمٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک دن کی پہریداری ایک مہینے کے نفلی روزوں اور نوافل سے بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6653)»
حدیث نمبر: 9495
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَجْرِي عَلَيْهِ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر میت کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے البتہ اللہ کی راہ میں پہرا دینے والے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کے عمل کا اجر اس کے لئے اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اور اس کو قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (307/17) اخرجه احمد فى المسند ( 150/4)»
حدیث نمبر: 9496
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ - تَرْفَعُ الْحَدِيثَ - قَالَ : " مَنْ رَابَطَ فِي شَيْءٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَجْزَأَتْ عَنْهُ رِبَاطُ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْمَدَنِيِّينَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام درداء رضی اللہ عنہا مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتی ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو شخص مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ایک دن پہرا دیتا ہے اس کی طرف سے ایک سال کا پہرا کفایت کر جاتا ہے ( یعنی اسے ایک سال کے پہرے کا ثواب ملتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے اہل مدینہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (254/24) اخرجه احمد فى المسند (362/6)»
حدیث نمبر: 9497
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ حَرَسَ لَيْلَةً عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِبَادَتِهِ فِي أَهْلِهِ أَلْفَ سَنَةٍ [ السَّنَةُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا ، وَكُلُّ يَوْمٍ أَلْفُ سَنَةٍ ] . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : " عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ أَبِي طَوِيلٍ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ ابْنُ حِبَّانَ وَثَّقَهُ فَقَدْ قَالَ فِي الضُّعَفَاءِ لَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص سمندر کے ساحل پر ایک رات پہرا دیتا ہے ، تو یہ اس شخص کے اپنے گھر میں ایک ہزار سال تک عبادت کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ( وہ سال ایسا ہو گا ) کہ ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہو اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” سمندر کے ساحل پر “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن خالد ابوطویل قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے اگرچہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن انہوں نے کتاب الضعفاء میں یہ بات بیان کی ہے ۔ اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4283)»
حدیث نمبر: 9498
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُجْرِيَ عَلَيْهِ عَمَلُ الصَّائِمِ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ وَيَبْعَثُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ فَقَالَ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں پہرا دینے کے دوران مر جائے تو روزے دار کا عمل اس کے لئے جاری رہتا ہے اور اس کا رزق اس کے لئے جاری رہتا ہے اور وہ ( قبر کی ) آزمائش سے محفوظ رہتا ہے اور قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا ، تو وہ بڑی پریشانی ( یعنی قیامت کی ہولناکی ) سے محفوظ ہو گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جسے عبداللہ بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9498
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1655)»
حدیث نمبر: 9499
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَجْرِ الرِّبَاطِ فَقَالَ : " مَنْ رَابَطَ يَوْمًا حَرَسًا مِنْ وَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ لَهُ أَجْرُ مَنْ خَلْفَهُ مِمَّنْ صَامَ وَصَلَّى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہریداری کے اجر کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مسلمانوں سے پرے ایک دن حفاظت کے لئے پہرا دیتا ہے اسے اپنے پیچھے موجود روزہ دار اور نماز پڑھنے والوں کی مانند اجر ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9500
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَابَطَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ سَبْعَةَ خَنَادِقَ كُلُّ خَنْدَقٍ كَسَبْعِ سَمَاوَاتٍ وَسَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو طَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن پہرا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص اور جہنم کے درمیان سات خندقیں حائل کر دے گا جن میں سے ہر ایک خندق سات آسمانوں اور سات زمینوں کی مانند ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سلیمان ابوطیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9501
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ رَابَطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمَّنَهُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں پہرا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9501
درجۂ حدیث محدثین: حدیث صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7480)»
حدیث نمبر: 9502
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَمَنْ تُوُفِّيَ مُرَابِطًا وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَجَرَى عَلَيْهِ رِزْقُهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ الصَّوْمَ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ تَقَوَّى بِالْمُتَابَعَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت جتنا دور کر دیتا ہے اور جو شخص پہرا دینے کے دوران انتقال کر جاتا ہے اسے قبر کی آزمائش سے بچا لیا جاتا ہے اور اس کا رزق اس پر جاری ہوتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف روزے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے
یہ روایت متابعات کے ذریعے قوی ہو جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9502
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف ولکن حسن لغیرہ
حدیث نمبر: 9503
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَمَامُ الرِّبَاطِ أَرْبَعُونَ يَوْمًا وَمَنْ رَابَطَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَمْ يَبِعْ وَلَمْ يَشْتَرِ وَلَمْ يُحْدِثْ حَدَثًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مکمل پہریداری چالیس دن کی ہوتی ہے ، جو شخص چالیس دن پہرا دے اس دوران وہ کوئی خرید و فروخت نہ کرے اور کسی حدث کا مرتکب نہ ہو ، تو وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9503
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7605)»
حدیث نمبر: 9504
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رِبَاطُ شَهْرٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ دَهْرٍ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَغُدِيَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ وَرِيحَ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيَجْرِي عَلَيْهِ أَجْرُ الْمُجَاهِدِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک مہینے کی پہریداری ہمیشہ نفلی روزہ رکھنے سے زیادہ بہتر ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں پہرا دینے کے دوران مر جاتا ہے وہ بڑی پریشانی سے محفوظ رہے گا اسے اس کا رزق فراہم کیا جاتا ہے اور جنت کی خوشبو ( یا ہوا ) دی جاتی ہے اور اس کے لئے مجاہد کا اجر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ اسے ( قیامت کے دن ) دوبارہ زندہ نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9505
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ عَمَلٍ يَنْقَطِعُ عَنْ صَاحِبِهِ إِذَا مَاتَ ، إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ ، وَيُجْرَى عَلَيْهِ رِزْقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر عمل اپنے متعلقہ فرد سے منقطع ہو جاتا ہے جب وہ فرد مر جاتا ہے البتہ اللہ کی راہ میں پہرا دینے والے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کا عمل اس کے لئے بڑھتا رہتا ہے اور اس کا رزق اس کے لئے جاری رہتا ہے یہ قیامت تک ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (256/19)»
حدیث نمبر: 9506
وَعَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ رَأَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ وَهُوَ مُرَابِطٌ بِسَاحِلِ [ حِمْصَ ] فَقَالَ : مَا لَكَ [ عَلَى هَذَا ] ؟ قَالَ : مُرَابِطٌ . قَالَ سَلْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ وَبُعِثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
شرحبیل بن سمط بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حمص کے ساحل پر پہرا دے رہے تھے ، تو یہ کہا: آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : پہرا دے رہا ہوں ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کی راہ میں ایک دن پہرا دینا ایک ماہ کے نفلی روزوں اور قیام کی مانند ہے اور جو شخص پہرا دینے کے دوران مر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا عمل اس کے لئے جاری کرتا ہے ، جو عمل وہ پہلے کیا کرتا تھا ، اور وہ شخص ( قبر کی ) آزمائش سے محفوظ رہتا ہے اور وہ شخص قیامت کے دن شہید کے طور پر زندہ کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9506
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6179)»
حدیث نمبر: 9507
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا انْتَاطَ غَزْوُكُمْ وَاسْتُحِلَّتِ الْغَنَائِمُ وَكَثُرَتِ الْغَرَائِمُ فَخَيْرُ جِهَادِكُمُ الرِّبَاطُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تمہارے غزوات منقطع ہو جائیں اور مال غنیمت کو حلال قرار دیدیا جائے اور تاوان زیادہ ہو جائے ، تو تمہارا سب سے بہتر جہاد پہریداری ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9507
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (135/17)»