عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ شَيْخٌ فَرَأَوْهُ مُوثَرًا فِي جَهَازِهِ فَسَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يُرِيدُ الْمَغْرِبَ وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ نَاسٌ إِلَى الْمَغْرِبِ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وُجُوهُهُمْ عَلَى ضَوْءِ الشَّمْسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومصعب بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ آئے لوگوں نے ان کے ساز و سامان میں کوئی چیز نمایاں دیکھی ان سے اس بارے میں دریافت کیا : تو ان صاحب نے بتایا : وہ مغرب کی طرف جانا چاہتے ہیں انہوں نے یہ بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب کچھ لوگ مغرب کی طرف جائیں گے وہ لوگ جب قیامت کے دن آئیں گے تو ان کے چہرے سورج کی طرح روشن ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ أَسْلَمُ النَّاسِ فِيهَا الْجُنْدَ الْغَرْبِيَّ " . ¤ قَالَ ابْنُ الْحَمِقِ : فَلِذَلِكَ قُدِّمْتُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ مِصْرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عُمَيْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُغَافِرِيِّ وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يَدْرِي مَنْ هُوَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب ایسا فتنہ ہو گا ، جس میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ سلامتی والا شخص وہ ہو گا جو مغربی لشکر میں ہو گا“ ۔ سیدنا ابن حمق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اسی وجہ سے اے اہل مصر ! میں تمہارے پاس آیا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے عمیرہ بن عبداللہ مغافری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے عمیرہ بن عبداللہ مغافری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟