حدیث نمبر: 9447
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ : لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ فَمَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : " أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ حَوْلَ الْعَدُوِّ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَكَذَلِكَ النَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کے گھر میں موجود تھے ۔ آپ نے سر رکھا اور سو گئے سونے کے دوران آپ مسکراتے رہے جب آپ بیدار ہوئے تو آپ کی زوجہ محترمہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ سونے کے دوران مسکرا رہے تھے کسی چیز نے آپ کو مسکرانے پر مجبور کیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اپنی امت کے کچھ لوگ پسند آئے جو اس سمندر پر سوار ہو کر دشمن کے گرد جائیں گے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے “ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے بہت سی بھلائی کا ذکر کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت عبدی ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی ایسا ہی کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت عبدی ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی ایسا ہی کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9448
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَجَّةٌ لِمَنْ لَمْ يَحُجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ وَغَزْوَةٌ لِمَنْ قَدْ حَجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ حِجَجٍ وَغَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ ، وَمَنْ أَجَارَ الْبَحْرَ فَكَأَنَّمَا أَجَازَ الْأَوْدِيَةَ كُلَّهَا ، وَالْمَائِدُ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے حج نہ کیا ہو اس کے لئے حج کرنا دس غزوات میں حصہ لینے سے زیادہ بہتر ہے اور جو شخص حج کر چکا ہو اس کے لئے غزوہ میں شرکت کرنا دس مرتبہ حج کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور سمندر کے غزوہ میں شرکت کرنا خشکی کے دس غزوات میں شرکت کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، جو شخص سمندر پار کرتا ہے وہ گویا تمام وادیاں پار کرتا ہے اور ( سمندری سفر میں ) جس شخص کا سر چکراتا ہے وہ ایسے شخص کی مانند ہے ، جو ( خشکی کی جنگ میں ) اپنے خون میں لت پت ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9449
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ غَزَا فِي الْبَحْرِ غَزْوَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يَغْزُو فِي سَبِيلِهِ - فَقَدْ أَدَّى إِلَى اللَّهِ طَاعَتَهُ كُلَّهَا، وَطَلَبَ الْجَنَّةَ كُلَّ مَطْلَبٍ ، وَهَرَبَ مِنَ النَّارِ كُلَّ مَهْرَبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الصُّبْحِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک سمندری جنگ میں حصہ لیتا ہے اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں جنگ میں حصہ لے رہا ہے ؟ تو ایسا شخص اپنی پوری اطاعت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ادا کر دیتا ہے اور جنت کو ہر طریقے سے طلب کرتا ہے اور جہنم سے ہر طریقے سے بھاگتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صبح ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صبح ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9450
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَاتَهُ الْغَزْوُ مَعِي فَلْيَغْزُ فِي الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے ساتھ جنگ میں حصہ نہ لے سکا ہو اسے سمندری جنگ میں حصہ لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9451
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " كَلَّمَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - هَذَا الْبَحْرَ الْغَرْبِيَّ وَكَلَّمَ الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ ، فَقَالَ لِلْبَحْرِ الْغَرْبِيِّ : إِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ بِهِمْ ؟ قَالَ : أُغْرِقُهُمْ قَالَ : بَأْسُكَ فِي نَوَاحِيكَ فَحَرَمَهُ الْحَلَبَةَ وَالصَّيْدَ . وَكَلَّمَ هَذَا الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ فَقَالَ : إِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي فَمَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِمْ ؟ قَالَ : أَحْمِلُهُمْ عَلَى بَدَنِي أَكُونُ لَهُمْ كَالْوَالِدَةِ لِوَلَدِهَا ، فَأَثَابَهُ الْحَلَبَةَ وَالصَّيْدَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَجَادَةً وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ تعالیٰ نے مغربی سمندر سے کلام کیا اور مشرقی سمندر سے کلام کیا اس نے مغربی سمندر سے فرمایا میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے تم پر سوار کرواؤں گا تم ان کے ساتھ کیا کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : میں انہیں ڈبو دوں گا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہاری خرابی تمہارے نواحی علاقوں میں ہو گی ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے زیور اور شکار سے محروم کر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے مشرقی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا : میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے تمہارے اوپر سوار کرواؤں گا تم ان کے ساتھ کیا کرو گے اس نے جواب دیا : میں اسے انہیں جسم پر سوار کرواؤں گا ؟ اور ان کے لئے یوں ہو جاؤں گا ، جس طرح ماں اپنے بچوں کے لئے ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بدلے میں زیور اور شکار عطا فرمایا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ’ وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ’ وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9452
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَرْكَبِ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجًّا أَوْ غَازِيًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صرف حج کے لئے جانے کے لئے یا جنگ میں حصہ لینے کے لئے سمندر پر سوار ہونا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیٹ بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیٹ بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔