کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو ایک تیر پھینکتا ہے
حدیث نمبر: 9396
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا فَقَاتِلُوا " . قَالَ : فَرَمَى رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "أَوْجَبَ هَذَا" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ تَأْتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فِي التَّفْسِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو اور جنگ کرو ۔ راوی کہتے ہیں : ایک شخص نے ایک تیر پھینکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے ( جنت کو ) واجب کر لیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ان دونوں کی سند حسن ہے اس کے بقیہ طرق کتاب التفسیر میں سورۃ مائدہ سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (124/17) اخرجه احمد فى المسند (183/4)»
حدیث نمبر: 9397
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ رَمَى رَمْيَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ - قَصَّرَ أَوْ بَلَغَ - كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ أَرْبَعِ أُنَاسٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ أَعْتَقَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے خواہ وہ نشانے تک پہنچے یا نہ پہنچے ، تو اس شخص کو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار افراد کو آزاد کرنے کی مانند اجر ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن بشر ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1706) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1380)»
حدیث نمبر: 9398
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے ، تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا “ ۔ ”
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبدالرحمن بن فضل بن موفق کے حوالے سے نقل کی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9398
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1707)»
حدیث نمبر: 9399
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ : " مَنْ أَدْخَلَ هَذَا الْحِصْنَ سَهْمًا فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ قَالَ عُتْبَةُ : فَأَدْخَلْتُ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ اور نضیر ( کے خلاف جنگ ) کے دن یہ ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس قلعے میں ایک تیر پھینک دے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی“ ۔ سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ( اس موقع پر ) تین تیر ( قلعے کے اندر ) داخل کیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9399
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (120/17)»
حدیث نمبر: 9400
وَعَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا أُحُدِيًّا وَهُوَ صَائِمٌ يَتَلَوَّى مِنَ الْعَطَشِ وَهُوَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ : وَيْحَكَ تَرِّسْنِي، فَتَرَّسَهُ الْغُلَامُ حَتَّى نَزَعَ بِسَهْمٍ نَزْعًا ضَعِيفًا حَتَّى رَمَى بِثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - قَصَّرَ أَوْ بَلَغَ - كَانَ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " فَقُتِلَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوعمرو انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ بدری بھی ہیں عقبی بھی ہیں احدی بھی ہیں ( یعنی انہیں غزوہ بدر بیعت عقبہ اور غزوہ اُحد میں شرکت کا شرف حاصل ہے ) انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ، اور پیاس کی شدت کی وجہ سے وہ زبان موڑ رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم مجھے ترکش پکڑاؤ ان کے غلام نے انہیں ترکش پکڑایا انہوں نے تیر نکالا جس ( نکالنے ) میں کمزوری تھی اور پھر انہوں نے تین تیر پھینکے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے خواہ وہ نشانے تک پہنچے یا پہنچے تو یہ چیز قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گی “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ صحابی سورج غروب ہونے سے پہلے شہید ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (381/22)»
حدیث نمبر: 9401
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ - كَانَ لَهُ مِثْلُ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص کے مسلمان ہونے کے دوران بال سفید ہو جائیں ، تو یہ قیامت کے دن اس کے لئے نور ہوں گے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکے خوا وہ نشانے پر لگے یا نہ لگے تو یہ چیز اس کے لئے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9401
درجۂ حدیث محدثین: رواه الطبراني بإسنادين رجال أحدهما ثقات.
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7556)»
حدیث نمبر: 9402
وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ دَرَجَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے اسلام میں بال سفید ہو جائیں ، تو یہ اس شخص کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لئے ایک درجہ نوٹ کر لے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سالم بن ابوالجعد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (151/20)»
حدیث نمبر: 9403
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : مُقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَلَغَ - أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ - فَبِعِتْقِ رَقَبَةٍ ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آدمی کا اللہ کی راہ میں صف میں کھڑا ہونا اس کے لئے دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے اور وہ ( نشانے تک ) پہنچ جاتا ہے خواہ نشانے پر لگے یا نہ لگے تو یہ غلام آزاد کرنے کی مانند ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے ( یعنی اس کے بال سفید ہو جائیں ) تو یہ چیز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (173/18)»