کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کانوں ، نیزوں اور تلواروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 9379
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ تَعَالَى وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي ، وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُمَا وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے قیامت سے پہلے تلوار کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے تاکہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور میرا زرق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے اور ذلت اور حقارت اس شخص پر مسلط کر دی گئی ہے ، جو میرے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے جسے ابن مدینی ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9380
وَعَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مَعَهُ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ فَقَالَ : " اطْرَحْهَا " ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْقَوْسِ الْعَرَبِيَّةِ فَقَالَ : " بِهَذِهِ وَبِرِمَاحِ الْقَنَا يُمَكِّنُ اللَّهُ لَكُمْ فِي الْبِلَادِ وَيَنْصُرُكُمْ عَلَى عَدُوِّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ لَمْ يُضَعَّفُوا وَلَمْ يُوَثَّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس فارسی کمان تھی آپ نے فرمایا : اسے رکھ دو ! پھر آپ نے عربی کمان کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : ” یہ اور قنا کے نیزے ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں شہروں پر تسلط عطا کرے گا ، اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہاری مدد کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں مستور راوی ہیں ، جنہیں نہ ہی ضعیف قرار دیا گیا ہے اور نہ ان کی توثیق گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9380
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (141/17)»
حدیث نمبر: 9381
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى خَيْبَرَ فَعَمَّمَهُ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ ثُمَّ أَرْسَلَهَا مِنْ وَرَائِهِ - أَوْ قَالَ : عَلَى كَتِفِهِ الْيُسْرَى - ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْبَعُ الْجَيْشَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى قَوْسٍ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ يَحْمِلُ قَوْسًا فَارِسِيًّا فَقَالَ : "أَلْقِهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَنْ يَحْمِلُهَا، عَلَيْكُمْ بِالْقَنَا وَالْقِسِيِّ الْعَرَبِيَّةِ فَإِنَّ بِهَا يُعِزُّ اللَّهُ دِينَكُمْ وَيَفْتَحُ لَكُمُ الْبِلَادَ " . ¤ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ : إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَنَّهَا كَانَتْ إِذْ ذَاكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ صَارَتْ عُدَّةً وَقُوَّةً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . وَقَالَ النَّسَائِيُّ : ضَعِيفٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِأَبِي عُبَيْدَةَ عِيسَى بْنِ سُلَيْمٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ سَمَاعًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا تو انہیں سیاہ عمامہ باندھا اور اس کا شملہ پیچھے کی طرف لٹکایا راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : بائیں کندھے پر ڈالا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے پیچھے چلتے ہوئے تشریف لے گئے آپ نے کمان کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی آپ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے فارسی کمان اٹھائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رکھ دو کیونکہ یہ ملعون ہے اور جو شخص اسے اٹھائے وہ ملعون ہے تم پر قنا اور عربی کمانیں استعمال کرنا لازم ہے ، کیونکہ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہارے دین کو غلبہ عطا کرے گا ، اور تمہارے لئے شہروں کو فتح کر دے گا ۔ یحیی بن حمزہ کہتے ہیں : یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ مخصوص ہے جہاں تک آج کی بات ہے ، تو آج یہ کمانیں اہل اسلام کے ہتھیاروں اور قوت کا حصہ بن چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ میں نے ابوعبیدہ عیسیٰ بن سلیم نامی راوی کے عبداللہ بن بشر سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9381
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9382
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَفَعَهُ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالرَّمْيِ فَإِنَّهُ خَيْرُ - أَوْ مِنْ خَيْرِ - لَهْوِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيْكُمْ بِالرَّمْيِ فَإِنَّهُ خَيْرُ لَعِبِكُمْ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَاتِمَ بْنَ اللَّيْثِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر تیراندازی لازم ہے ، کیونکہ یہ تمہارے کھیل میں سب سے بہتر ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر تیر اندازی لازم ہے ، کیونکہ یہ تمہارے کھیلوں میں سب سے بہتر ہے “ ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حاتم بن لیث کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ امام طبرانی کے رجال کا معاملہ بھی اس طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9382
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1701)»
حدیث نمبر: 9383
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَشْهَدُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ رَهْنِكُمْ إِلَّا النِّصَالَ وَالنِّضَالَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فرشتے تمہارے مقابلوں میں کسی میں شامل نہیں ہوتے البتہ گھڑ دوڑ اور تیراندازی کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9383
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1705) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13474)»
حدیث نمبر: 9384
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَوْمٍ يَرْمُونَ فَقَالَ : " ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو تیراندازی کر رہے تھے نبی اکرم صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ تیراندازی کرو ! اے اولاد اسماعیل ! کیونکہ تمہارے جدامجد بھی تیرانداز تھے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1702) اخرجه ابو يعلى فى المسند (6119)»
حدیث نمبر: 9385
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ يَرْمُونَ فَقَالَ : " ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو تیراندازی کر رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : اے اولاد اسماعیل ! تم تیراندازی کرو تمہارے جد امجد بھی تیرانداز تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9385
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1703)»
حدیث نمبر: 9386
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْأَسْلَمِيِّينَ : " ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "وَأَنَا مَعَ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ " . فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ قَالَ : " مَا لَكُمْ ؟ " قَالُوا : مَنْ كُنْتَ مَعَهُ فَقَدْ غَلَبَ . قَالَ : " ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلُّكُمْ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم قبیلے کے لوگوں سے فرمایا : اے اولاد اسماعیل ! تم تیراندازی کرو ، کیونکہ تمہارے جدامجد بھی تیرانداز تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں محجن بن ادرع کے ساتھ ہوں ، تو لوگ رک گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : آپ جس کے ساتھ ہوں گے وہ غالب آ جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ تیراندازی کرو میں تم سب لوگوں کے ساتھ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2988)»
حدیث نمبر: 9387
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْأَرْضَ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ وَتُكْفَوْنَ الدُّنْيَا ، فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ : ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب زمین تمہارے لئے فتح کر دی جائے گی اور دنیا کے حوالے سے تمہارے لئے کفایت ہو جائے گی تو تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے تیروں کے ذریعے کھیلنے کے حوالے سے عاجز نہ آ جائے ( یعنی اسے ترک نہ کر دے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ بھی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (41/17)»
حدیث نمبر: 9388
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا لَجَّ بِهِ هَمُّهُ أَنْ يَتَقَلَّدَ قَوْسَهُ فَيَنْفِيَ بِهِ هَمَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ الزُّبَيْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ جب اسے پریشانی ( یا دشمن کی طرف سے خوف ) لاحق ہو ، تو وہ اپنی کمان گلے میں ڈالے اور اس کے ذریعے اپنی پریشانی کو ختم کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زبیر زبیدی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9388
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (11858)»
حدیث نمبر: 9389
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ يَرْمِي بَيْنَ هَدَفَيْنِ وَمَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَقَالَ : أُمِرْنَا أَنْ نُعَلِّمَ أَوْلَادَنَا الرَّمْيَ وَالْقُرْآنَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ الطَّائِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا خالد بن یزید رضی اللہ عنہ کو جنگ یرموک کے دن دیکھا کہ وہ دو ہدفوں کے درمیان تیراندازی کر رہے تھے ان کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد بھی تھے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ۔ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی اولاد کو تیر اندازی اور قرآن کی تعلیم دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منذر بن زیادطائی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9389
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (3837)»
حدیث نمبر: 9390
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَجَابِرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَرْتَمِيَانِ ، فَمَلَّ أَحَدُهُمَا فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ الْآخَرُ : كَسِلْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَهُوَ لَهْوٌ أَوْ سَهْوٌ ، إِلَّا أَرْبَعَ خِصَالٍ : مَشْيُ الرَّجُلِ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ، وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتُهُ أَهْلَهُ ، وَتَعْلِيمُ السِّبَاحَةِ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ بُخْتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ دونوں تیراندازی کر رہے تھے ان میں سے ایک تھک گیا تو بیٹھ گیا تو دوسرے صاحب نے ان سے کہا: کیا تم تھک گئے ہو ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر وہ چیز جس کا تعلق اللہ کے ذکر سے نہ ہو ، تو وہ لہو ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ سہو ہے البتہ چار چیزوں کا معاملہ مختلف ہے آدمی کا دو نشانوں کے درمیان چلنا آدمی کا اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا اور تیراکی کی تعلیم “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالوہاب بن بخت کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1704) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (1785)»
حدیث نمبر: 9391
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ شَيْءٍ مِنْ لَهْوِ الدُّنْيَا بَاطِلٌ إِلَّا ثَلَاثًا : انْتِضَالَكَ بِقَوْسِكَ، وَتَأْدِيبَكَ فَرَسَكَ ، وَمُلَاعَبَتَكَ أَهْلَكَ ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْتَضِلُوا وَارْكَبُوا ، وَأَنْ تَنْتَضِلُوا أَحَبُّ إِلَيَّ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ ؛ صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِيهِ ، وَالْمُمِدَّ بِهِ ، وَالرَّامِيَ بِهِ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ أَحْمَدُ : مَتْرُوكٌ . وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا کے لہو سے تعلق رکھنے والی ہر چیز باطل ہے البتہ تین چیزوں کا معاملہ مختلف ہے تمہارا اپنی کمان کے ذریعے تیراندازی کرنا تمہارا اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور تمہارا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا ، کیونکہ یہ حق میں سے ہیں“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تیراندازی کرو ! گھڑ سواری کرو ، اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا اسے بنانے والا جو اسے بنانے میں ثواب کی امید رکھتا ہو اسے پکڑانے والا اور اسے پھینکنے والا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے اور یہ روایت مکمل روایت نفلی صدقہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : یہ متروک ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے دحیم اسے ثقہ کہتے ہیں : اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9391
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 9392
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ لَهْوٍ يُكْرَهُ إِلَّا مُلَاعَبَةَ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَمَشْيَهُ بَيْنَ الْهَدَفَيْنِ وَتَعْلِيمَهُ فَرَسَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ الطَّائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر لہو کو مکروہ قرار دیا گیا ہے البتہ آدمی کے اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے اور دو ہدفوں کے درمیان اس کے چلنے اور اس کے اپنے گھوڑے کی تربیت کرنے کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منذر بن زیادطائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9393
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَشَى بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دو نشانوں کے درمیان چلتا ہے اسے ہر قدم کے عوض میں ایک نیکی ملتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9393
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13078)»
حدیث نمبر: 9394
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَشْتَدُّ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ وَيَقُولُ : إِنِّي بِهَا إِنِّي بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ دو نشانوں کے درمیان دوڑ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : مجھے اس کے عوض میں یہ ملے گا مجھے اس کے عوض میں یہ ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9395
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ نَسِيَهُ فَهِيَ نِعْمَةٌ جَحَدَهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص تیراندازی سیکھنے کے بعد اسے بھول جائے تو یہ ایک نعمت تھی جس کا اس نے انکار کیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے جسے شعبہ ، ثوری اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (543)»