کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: گھوڑوں کی مختلف قسموں کا بیان اور ان میں سے کون سا پسندیدہ ہے ؟ اور کون سا ناپسندیدہ ہے ؟
حدیث نمبر: 9344
عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْكُلَاعِيِّ وَسُئِلَ : لِمَ فَضَّلَ الْأَشْقَرَ ؟ قَالَ : لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبَ الْأَشْقَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَوْلُهُ : " أَبِي وَهْبٍ الْكُلَاعِيِّ " وَهْمٌ ؛ لِأَنَّ عَقِيلَ بْنَ شَبِيبٍ لَمْ يَرْوِ إِلَّا عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابووہب کلاعی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے سوال کیا گیا : انہوں نے اشقر کو کیوں فضیلت دی ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی تھی تو جو صاحب فتح کی خوشخبری لے کے آئے تھے ۔ وہ ” اشقر “ “ ( یعنی گہرے سرخ رنگ کے ) گھوڑے پر سوار تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان کے یہ الفاظ ” سیدنا ابووہب کلاعی رضی اللہ عنہ “ یہ وہم ہے ، کیونکہ عقیل بن شبیب نامی راوی نے صرف سیدنا ابووہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان کے یہ الفاظ ” سیدنا ابووہب کلاعی رضی اللہ عنہ “ یہ وہم ہے ، کیونکہ عقیل بن شبیب نامی راوی نے صرف سیدنا ابووہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9345
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا وَأَيْمَنُهَا نَاصِيَةُ مَا كَانَ مِنْهَا أَغَرَّ مُحَجَّلًا مُطْلَقَ الْيَدِ الْيُمْنَى" . ¤ قُلْتُ : اقْتَصَرَ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ عَلَى قَوْلِهِ : " يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ فَرَجُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑے کی برکت اس کے گہرے سرخ رنگ میں ہے اور اس میں بھی زیادہ مبارک پیشانی والا وہ ہے ، جو چمکدار پیشانی والا ہو ، اور اس کی ٹانگوں میں سفید نشان ہو ، اور اس کا دایاں اگلا پاؤں کھلا ہو ( شاید یہ مراد ہے کہ اس پر سفید نشان نہ ہو ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کے صرف ان الفاظ کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے : ” گھوڑے کی برکت اُس کے گہرے سرخ رنگ میں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرج بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرج بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9346
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْزُوَ فَاشْتَرِ فَرَسًا أَغَرَّ مُحَجَّلًا مُطْلَقَ الْيُمْنَى فَإِنَّكَ تَسْلَمُ وَتَغْنَمُ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ کرو ، تو ایسا گھوڑا خریدو ، جو چمکدار پیشانی والا ہو ، اس کی ( تین ) ٹانگوں میں سفید نشان ہو ، اور ( آگے والی ) دائیں ٹانگ میں نہ ہو ، اس طرح تم سلامت بھی رہو گے اور تمہیں غنیمت بھی حاصل ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9347
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُثَفَّلَةَ ؛ فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ وَإِنْ تَغْنَمْ تَغُلَّ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَأَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ بِالْخَيْلِ أَصْحَابَ الْخَيْلِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم ست قسم کے گھوڑوں سے بچ کے رہو ، کیونکہ اگر وہ ( دشمن کا ) سامنا کرے گا ، تو فرار ہو جائے گا ، اور اگر تمہیں غنیمت حاصل ہو گی ، تو تم خیانت کرو گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور شاید یہاں گھوڑے سے مراد گھوڑے والے افراد ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور شاید یہاں گھوڑے سے مراد گھوڑے والے افراد ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔