کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( سفر میں ) ساتھ ہونا
حدیث نمبر: 9317
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشَّيْطَانُ يَهُمُّ بِالْوَاحِدِ وَالِاثْنَيْنِ فَإِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً لَمْ يَهُمَّ بِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان ( سفر کے دوران ) ایک یا دو افراد کا قصد کرتا ہے ، لیکن جب تین افراد ہوں ، تو پھر وہ ان کا قصد نہیں کرتا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9317
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1698)»
حدیث نمبر: 9318
وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ : خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي عُمَرُ : مَنْ صَحِبْتَ ؟ قُلْتُ : صَحِبْتُ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ . فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
اسلم بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر پر گیا جب میں واپس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارے ساتھ کون تھا ؟ میں نے جواب دیا : میں بکر بن وائل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” تمہارا بھائی بکری ( یعنی بکر قبیلے سے تعلق رکھنے والا ) ہے اور تم اس سے بے خوف ( یا محفوظ ) نہیں ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں زید بن عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9318
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2071)»
حدیث نمبر: 9319
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، وَمَا هُزِمَ قَوْمٌ بَلَغُوا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ إِذَا صَدَقُوا وَصَبَرُوا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ : " صَدَقُوا وَصَبَرُوا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( سفر میں ) سب سے بہتر چار ساتھی ہوتے ہیں جنگی مہم میں چار سو افراد سب سے بہتر ہوتے ہیں لشکر میں چار ہزار افراد سب سے بہتر ہوتے ہیں اور جو لوگ بارہ ہزار کی تعداد تک پہنچ جائیں وہ کم ہونے کی وجہ سے پسپا نہیں ہوتے جبکہ وہ سچ بولیں اور صبر سے کام لیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے نقل کی ہے تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” وہ سچ بولیں اور صبر سے کام لیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9319
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2714)»