عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ : " مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ غَزِيٍّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ صدقہ کے اونٹ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، نبی اکرم نے اپنا دست مبارک بڑھا کر ایک اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا اور ارشاد فرمایا : ” میں اس بال کے بارے میں بھی ، مسلمانوں کے کسی فرد سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن غزی ہے ، جسے کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن غزی ہے ، جسے کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ حَسَنٌ : يَوْمَ الْأَضْحَى - فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ - يَعْنِي الْوِزَّ - فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ . فَقَالَ : يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن زریر بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حسن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ عید الاضحی کے دن کی بات ہے ، انہوں نے ہمارے سامنے خزیرہ رکھا ، تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھیک رکھے ، اگر آپ ہمارے سامنے یہ ” بط “ ( کھانے کے لیے ) رکھتے ، ( تو زیادہ مناسب ہوتا ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ بھلائی عطا کر دی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اے ابن زریر ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کسی خلیفہ کے لئے ، اللہ کے مال میں سے ، صرف دو پیالے حلال ہیں ، ایک وہ پیالہ ، جسے وہ اور اُس کے اہل خانہ کھائیں اور ایک وہ پیالہ ، جسے وہ لوگوں کے سامنے رکھ دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا احْتُضِرَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ : يَا عَائِشَةُ انْظُرِي اللِّقْحَةَ الَّتِي كُنَّا نَشْرَبُ مِنْ لَبَنِهَا وَالْجَفْنَةَ الَّتِي كُنَّا نَصْطَبِحُ فِيهَا وَالْقَطِيفَةَ الَّتِي كُنَّا نَلْبَسُهَا ، فَإِنَّا كُنَّا نَنْتَفِعُ بِذَلِكَ حِينَ كُنَّا نَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِذَا مِتُّ فَارْدُدِيهِ إِلَى عُمَرَ ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ أَرْسَلَتْ بِهِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : رَحِمَكَ اللَّهُ لَقَدْ أَتْعَبْتَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اے عائشہ ! وہ اونٹنی جس کا دودھ ہم پیتے تھے ، اور وہ پیالہ جس میں ہم کھاتے تھے ، اور وہ لحاف جسے ہم اوڑھا کرتے تھے ، ہم ان چیزوں سے اُس وقت تک نفع حاصل کرتے رہے ، جب تک ہم مسلمانوں کے امور کے نگران رہے ، جب میں مر جاؤں گا ، تو تم یہ چیزیں عمر کو دے دینا ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے وہ چیزیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، آپ نے اپنے بعد آنے والے کو مشکل کا شکار کر دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ تَمِيمٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِلْخَلِيفَةِ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " مَا لِي ، مَا رَحِمَ ذَا الرَّحِمِ وَأَقْسَطَ فِي الْقِسْطِ وَعَدَلَ فِي الْقِسْمَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن تمیم رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بعد والے خلیفہ کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جو مجھے ملتا ہے ، جب تک وہ رحم کے مستحق پر رحم کرتا رہے ، انصاف سے کام لے اور تقسیم کرتے ہوئے عدل کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَتَّابَ بْنَ أُسَيْدٍ - وَهُوَ مَسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ - يَقُولُ : وَاللَّهِ مَا أَصَبْتُ فِي عَمَلِي هَذَا الَّذِي وَلَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ثَوْبَيْنِ مُعَقَّدَيْنِ فَكَسَوْتُهُمَا مَوْلَايَ كَيْسَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن ابوعقرب بیان کرتے ہیں ! میں نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، اُس وقت انہوں نے بیت اللہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : یہ کام ، جس کا نگران ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مقرر کیا ہے ، اللہ کی قسم ! اس کے حوالے سے مجھے صرف دو کپڑے ملے ہیں ، جو میں نے اپنے غلام کیسان کو پہننے کے لئے دیدیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : لَئِنْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ تَرَكَا هَذَا الْمَالَ لَقَدْ غُبِنَا وَضَلَّ رَأْيُهُمَا - وَايْمُ اللَّهِ - مَا كَانَا مَغْبُونَيْنِ وَلَا نَاقِصَيِ الرَّأْيِ وَإِنْ كَانَ لَا يَحِلُّ لَهُمَا فَأَخَذْنَاهُ بَعْدَهُمَا لَقَدْ هَلَكْنَا - وَايْمُ اللَّهِ - مَا جَاءَ الْوَهْمُ إِلَّا مِنْ قِبَلِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مال چھوڑا ہوتا ، تو ان دونوں کے ساتھ دھوکہ ہونا تھا اور اُن دونوں کی رائے خراب ہو گئی ہوتی ، لیکن اللہ کی قسم ! نہ تو ان دونوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ، اور نہ ہی اُن دونوں کی رائے ناقص تھی ، اگر یہ اُن دونوں کے لئے حلال نہیں تھا ، اور ان دونوں کے بعد ہم اسے حاصل کر لیتے ہیں ، تو ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اللہ کی قسم ! پھر وہم تو ہماری طرف سے ہی آئے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔