حدیث نمبر: 9169
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ حَسَنٌ : يَوْمَ الْأَضْحَى - فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ - يَعْنِي الْوِزَّ - فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ . فَقَالَ : يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن زریر بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حسن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ عید الاضحی کے دن کی بات ہے ، انہوں نے ہمارے سامنے خزیرہ رکھا ، تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھیک رکھے ، اگر آپ ہمارے سامنے یہ ” بط “ ( کھانے کے لیے ) رکھتے ، ( تو زیادہ مناسب ہوتا ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ بھلائی عطا کر دی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اے ابن زریر ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کسی خلیفہ کے لئے ، اللہ کے مال میں سے ، صرف دو پیالے حلال ہیں ، ایک وہ پیالہ ، جسے وہ اور اُس کے اہل خانہ کھائیں اور ایک وہ پیالہ ، جسے وہ لوگوں کے سامنے رکھ دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9169
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (578)»