کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کسی کو خلیفہ مقرر کرنا اور متولی کا وصیت کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَعٍ قَالَ : قِيلَ لَعَلِيٍّ : أَلَا تَسْتَخْلِفُ ؟ قَالَ : لَا وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سبع بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا آپ کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! میں تمہیں اسی طرح کی صورت حال پر چھوڑتا ہوں جس طرح کی صورت حال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں چھوڑا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9007
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَدَعَاهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ : إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى أَمْرٍ مُتْعِبٍ لِمَنْ وَلِيَهُ ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ بِطَاعَتِهِ وَأَطِعْهُ بِتَقْوَاهُ ، فَإِنَّ التُّقَى أَمْرٌ مَحْفُوظٌ ، ثُمَّ إِنَّ الْأَمْرَ مَعْرُوضٌ لَا يَسْتَوْجِبُهُ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِهِ ، فَمَنْ أَمَرَ بِالْحَقِّ وَعَمِلَ بِالْبَاطِلِ، وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَعَمِلَ بِالْمُنْكَرِ يُوشِكُ أَنْ تَنْقَطِعَ أُمْنِيَّتُهُ ، وَأَنْ يَحْبَطَ بِهِ عَمَلُهُ فَإِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ عَلَيْهِمْ أَمْرَهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَجِفَّ يَدَيْكَ مِنْ دِمَائِهِمْ ، وَأَنْ تُضْمِرَ بَطْنَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ ، وَأَنْ تَجِفَّ لِسَانَكَ عَنْ أَعْرَاضِهِمْ فَافْعَلْ ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالْأَغَرُّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اغر ابومالک بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہیں پیغام بھیج کر بلوایا جب وہ ان کے پاس آئے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں ایک ایسے معاملے کی طرف بلانے لگا ہوں کہ جو شخص اس کا نگران بنے گا یہ معاملہ اسے پریشانی کا شکار کرے گا اے عمر ! تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے ہمراہ اس سے ڈرو ، اور اس کی پرہیزگاری کے ہمراہ اس کی اطاعت کرو کیونکہ پرہیزگاری ایک محفوظ معاملہ ہے ، اور پھر اس کے بعد ایک اور معاملہ ہوتا ہے اس کو وہ شخص واجب کرتا ہے جو اس پر عمل کرتا ہے جو شخص حق کے مطابق حکم دے اور باطل کے مطابق عمل کرے یا نیکی کے بارے میں حکم دے اور برائی پر عمل کرے ، تو عنقریب اس کی آرزوئیں کی ختم ہو جائیں گی اور اس کا عمل ضائع ہو جائے گا ، جب تم ان کے معاملے کے نگران بنو گے تو اگر تم سے ہو سکے ، تو اپنے ہاتھوں کو ان کے خون سے محفوظ رکھنا اپنے پیٹ کو ان کے اموال سے بچا کے رکھنا اور اپنی زبان کو ان کی عزتوں سے محفوظ رکھنا تم ایسا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اغر نامی راوی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : لَمَّا بَايَعَ مُعَاوِيَةُ [ لِيَزِيدَ ] حَجَّ ، فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : إِنَّا قَدْ بَايَعْنَا يَزِيدَ فَبَايِعُوهُ فَقَامَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ أَحَقُّ بِهَا مِنْهُ ، فَإِنَّ أَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ وَجَدِّي خَيْرٌ مِنْ جَدِّهِ وَأُمِّي خَيْرٌ مِنْ أُمِّهِ وَأَنَا خَيْرٌ مِنْهُ . فَقَالَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ جَدَّكَ خَيْرٌ مِنْ جَدِّهِ فَصَدَقْتَ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ أُمَّكَ خَيْرٌ مَنْ أُمِّهِ فَصَدَقْتَ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مَنْ بِنْتِ مُجَدَّلٍ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ أَبَاكَ خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ ، فَقَدْ قَارَعَ أَبُوكَ أَبَاهُ فَقَضَى اللَّهُ لِأَبِيهِ عَلَى أَبِيكَ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ خَيْرٌ مِنْهُ ، فَلَهُوَ أَرَبُّ مِنْكَ وَأَعْقَلُ مَا يَسُرُّنِي بِهِ مِثْلُكَ أَلْفٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے لئے بیعت لی اس کے بعد وہ حج کرنے کے لئے آئے ان کا گزر مدینہ منورہ سے ہوا ۔ انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ہم نے یزید کے لئے بیعت لے لی ہے ، تو تم لوگ بھی اس کی بیعت کرو تو سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور بولے : اللہ کی قسم ! اس ( حکومت ) کے بارے میں ، میں اس ( یعنی یزید ) سے زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میرے والد اس کے والد سے بہتر ہیں میرے نانا اس کے دادا سے بہتر ہیں میری والدہ اس کی والدہ سے بہتر ہیں اور میں اس سے بہتر ہوں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ کے نانا اس کے دادا سے بہتر ہیں ، تو آپ نے ٹھیک کہا: ہے اللہ کے رسول سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بہتر ہیں جہاں تک آپ نے یہ بات ذکر کی ہے کہ آپ کی والدہ اس کی ماں سے بہتر ہے ، تو آپ نے یہ بھی سچ کہا: ہے اللہ کے رسول کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مجدل کی بیٹی ( یعنی یزید کی ماں ) سے بہتر ہیں جہاں تک آپ نے یہ بات ذکر کی ہے آپ کے والد اس کے باپ سے بہتر ہیں ، تو آپ کے والد نے اس کے والد کے ساتھ قرعہ اندازی کی ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کے مقابلے میں اس کے والد کے حق میں فیصلہ دیدیا جہاں تک آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ اس سے بہتر ہیں ، تو یہ آپ سے زیادہ سمجھ دار اور زیادہ عقل مند ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے عوض میں آپ جیسے ہزار فرد مل جائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ربیع ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ایک ایسا شیخ ہے جو معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ربیع ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ایک ایسا شیخ ہے جو معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (356/19)»