کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: انصاف اور ظلم کا بیان
حدیث نمبر: 8997
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَقَصْرًا يُسَمَّى عَدَنًا ، حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالصُّرُوحُ ، لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ خَيِّرَةٍ ، لَا يَدْخُلُهُ وَلَا يَسْكُنُهُ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ [ أَوْ شَهِيدٌ ] أَوْ إِمَامٌ عَادِلٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایک محل ہے جس کا نام عدن ہے اس کے اردگرد برج اور صروح ہیں ، اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر ہر دروازے کے پاس پانچ ہزار پانچ ہزار منتخب خواتین ہونگی ، اس محل میں صرف کوئی نبی یا صدیق یا شہید یا عادل حکمران داخل ہوں گے ، اور رہائش اختیار کریں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسلم بن ہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1591)»
حدیث نمبر: 8998
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ ، فَإِنْ عَدَلَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَكَانَ - يَعْنِي عَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ - وَإِنْ جَارَ أَوْ حَافَ أَوْ ظَلَمَ كَانَ عَلَيْهِ الْوِزْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ ، وَإِذَا حُورِبَ الْوُلَاةُ قَحَطَتِ السَّمَاءُ ، وَإِذَا مُنِعَتِ الزَّكَاةُ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، وَإِذَا ظَهَرَ الزِّنَا ظَهَرَ الْفَقْرُ وَالْمَسْكَنَةُ ، وَإِذَا أَخَفَرَتِ الذِّمَّةُ أُدِيلَ الْكُفَّارُ " أَوْ كَلِمَةٌ نَحْوَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو مَهْدِيٍّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سلطان زمین میں اللہ کا سایہ ہوتا ہے جس کی طرف اللہ کے بندوں میں سے ہر مظلوم شخص پناہ کے لئے آتا ہے اگر وہ ( حکمران ) عدل سے کام لے گا ، تو اسے اجر ملے گا ، اور وہ ہو گا ( راوی کہتے ہیں : یعنی رعایا پر ) شکر لازم ہو گا ، اور اگر وہ ستم کرے یا زیادتی کرے یا ظلم کرے ، تو اس کا وبال اس پر ہو گا ، اور رعایا پر صبر کرنا لازم ہو گا ، اور جب حکمرانوں کے ساتھ جنگ کی جائے ، تو آسمان سے قحط نازل ہوتا ہے ، جب زکوۃ ادا نہ کی جائے ، تو مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں جب زنا ظاہر ہوتا ہے ، تو غربت اور مسکینی ظاہر ہوتی ہے ، اور جب ذمہ کی خلاف ورزی کی جاتی ہے ، تو کفار کو غلبہ عطا کر دیا جاتا ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں : یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ابومہدی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8998
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1590)»
حدیث نمبر: 8999
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَطْلُعَ ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْجَوْرِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ ، ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالْعَدْلِ ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْعَدْلِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيَهِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد ظلم آ جائے گا ، اور جب بھی ظلم سامنے آئے گا ، تو اتنا ہی عدل رخصت ہو جائے گا یہاں تک کہ ظلم کے زمانے میں کوئی بچہ پیدا ہو گا اسے ظلم کے علاوہ کسی اور چیز کا پتہ ہی نہیں ہو گا پھر اللہ تعالیٰ عدل لے آئے گا پھر جیسے جیسے عدل آئے گا اسی حساب سے ظلم رخصت ہوتا جائے گا یہاں تک کہ عدل کے زمانے میں کوئی بچہ پیدا ہو گا اسے اس کے علاوہ کسی چیز ( یعنی ظلم ) کا پتہ ہی نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن طہمان ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ابن حبان کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (26/5)»
حدیث نمبر: 9000
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا إِذَا قَالَتْ صَدَقَتْ ، وَإِذَا حَكَمَتْ عَدَلَتْ ، وَإِذَا اسْتُرْحِمَتْ رَحَمَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک یہ بات کرتے ہوئے سچ بولیں گے فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لیں گے اور جب ان سے رحم مانگا جائے گا ، تو رحم کریں گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9000
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4040) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (799)»
حدیث نمبر: 9001
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا حَكَمْتُمْ فَاعْدِلُوا وَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مُحْسِنٌ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم فیصلہ کرو تو عدل سے کام لو اور جب تم ( سزا دیتے ہوئے یا جنگ میں کسی کو ) قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھائی فرمانے والا ہے ، اور اچھائی کرنے والے کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9002
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَوْمٌ مِنْ إِمَامٍ عَادِلٍ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً ، وَحَدٌّ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ بِحَقِّهِ أَزْكَى فِيهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ عَامًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدُ أَبُو غِيلَانَ الشَّيْبَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عادل حکمران کی طرف سے ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، اور زمین میں کسی حق کی بنیاد پر کسی حد کا قائم کیا جانا ( یعنی سزا کا جاری ہونا ) زمین کے لئے چالیس سال بارش ہونے سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد ابوغیلان شیبانی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11932)»
حدیث نمبر: 9003
وَعَنْ أَبِي قَحْذَمٍ قَالَ : وُجِدَ فِي زَمَانِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ : هَذَا نَبْتُ [ فِي ] زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو قَحْذَمٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوقذم بیان کرتے ہیں : زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں گٹھلیوں جتنی چیزیں تھیں اور ان پر یہ تحریر تھا : یہ اس زمانے کی پیداوار ہے کہ جس میں عدل پر عمل ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور ابوقحذم نامی شخص ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9003
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7936)»
حدیث نمبر: 9004
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ جَائِرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ظالم حکمران کو ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (663) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1088) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط “ (1618)»
حدیث نمبر: 9005
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا فِي الْوَادِي بِئْرٌ يُقَالُ لَهُ : هَبْهَبُ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْكِنَهُ كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم میں ایک وادی ہے اس وادی میں ایک کنواں ہے جس کا نام ” ہبہب “ ہے اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر ظالم سرکش ( حکمران ) کو اس میں ٹھہرائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9005
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7249)»
حدیث نمبر: 9006
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : " إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَفْضَلَ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامُ عَدْلٍ رَفِيقٍ ، وَشَرَّ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ جَائِرٌ خَرِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت اس حکمران کو حاصل ہو گی جو انصاف کرنے والا اور مہربان ہو اور قیامت کے دن قدر و منزلت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اللہ کے بندوں میں سب سے برا شخص ظالم اور سرکش حکمران ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9006
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (350)»