مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِخْلَافِ وَوَصِيَّةُ الْمُتَوَلِّي . باب: کسی کو خلیفہ مقرر کرنا اور متولی کا وصیت کرنا
وَعَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَدَعَاهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ : إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى أَمْرٍ مُتْعِبٍ لِمَنْ وَلِيَهُ ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ بِطَاعَتِهِ وَأَطِعْهُ بِتَقْوَاهُ ، فَإِنَّ التُّقَى أَمْرٌ مَحْفُوظٌ ، ثُمَّ إِنَّ الْأَمْرَ مَعْرُوضٌ لَا يَسْتَوْجِبُهُ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِهِ ، فَمَنْ أَمَرَ بِالْحَقِّ وَعَمِلَ بِالْبَاطِلِ، وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَعَمِلَ بِالْمُنْكَرِ يُوشِكُ أَنْ تَنْقَطِعَ أُمْنِيَّتُهُ ، وَأَنْ يَحْبَطَ بِهِ عَمَلُهُ فَإِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ عَلَيْهِمْ أَمْرَهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَجِفَّ يَدَيْكَ مِنْ دِمَائِهِمْ ، وَأَنْ تُضْمِرَ بَطْنَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ ، وَأَنْ تَجِفَّ لِسَانَكَ عَنْ أَعْرَاضِهِمْ فَافْعَلْ ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالْأَغَرُّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤اغر ابومالک بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہیں پیغام بھیج کر بلوایا جب وہ ان کے پاس آئے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں ایک ایسے معاملے کی طرف بلانے لگا ہوں کہ جو شخص اس کا نگران بنے گا یہ معاملہ اسے پریشانی کا شکار کرے گا اے عمر ! تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے ہمراہ اس سے ڈرو ، اور اس کی پرہیزگاری کے ہمراہ اس کی اطاعت کرو کیونکہ پرہیزگاری ایک محفوظ معاملہ ہے ، اور پھر اس کے بعد ایک اور معاملہ ہوتا ہے اس کو وہ شخص واجب کرتا ہے جو اس پر عمل کرتا ہے جو شخص حق کے مطابق حکم دے اور باطل کے مطابق عمل کرے یا نیکی کے بارے میں حکم دے اور برائی پر عمل کرے ، تو عنقریب اس کی آرزوئیں کی ختم ہو جائیں گی اور اس کا عمل ضائع ہو جائے گا ، جب تم ان کے معاملے کے نگران بنو گے تو اگر تم سے ہو سکے ، تو اپنے ہاتھوں کو ان کے خون سے محفوظ رکھنا اپنے پیٹ کو ان کے اموال سے بچا کے رکھنا اور اپنی زبان کو ان کی عزتوں سے محفوظ رکھنا تم ایسا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اغر نامی راوی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔