حدیث نمبر: 9009
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : لَمَّا بَايَعَ مُعَاوِيَةُ [ لِيَزِيدَ ] حَجَّ ، فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : إِنَّا قَدْ بَايَعْنَا يَزِيدَ فَبَايِعُوهُ فَقَامَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ أَحَقُّ بِهَا مِنْهُ ، فَإِنَّ أَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ وَجَدِّي خَيْرٌ مِنْ جَدِّهِ وَأُمِّي خَيْرٌ مِنْ أُمِّهِ وَأَنَا خَيْرٌ مِنْهُ . فَقَالَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ جَدَّكَ خَيْرٌ مِنْ جَدِّهِ فَصَدَقْتَ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ أُمَّكَ خَيْرٌ مَنْ أُمِّهِ فَصَدَقْتَ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مَنْ بِنْتِ مُجَدَّلٍ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ أَبَاكَ خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ ، فَقَدْ قَارَعَ أَبُوكَ أَبَاهُ فَقَضَى اللَّهُ لِأَبِيهِ عَلَى أَبِيكَ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ خَيْرٌ مِنْهُ ، فَلَهُوَ أَرَبُّ مِنْكَ وَأَعْقَلُ مَا يَسُرُّنِي بِهِ مِثْلُكَ أَلْفٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے لئے بیعت لی اس کے بعد وہ حج کرنے کے لئے آئے ان کا گزر مدینہ منورہ سے ہوا ۔ انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ہم نے یزید کے لئے بیعت لے لی ہے ، تو تم لوگ بھی اس کی بیعت کرو تو سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور بولے : اللہ کی قسم ! اس ( حکومت ) کے بارے میں ، میں اس ( یعنی یزید ) سے زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میرے والد اس کے والد سے بہتر ہیں میرے نانا اس کے دادا سے بہتر ہیں میری والدہ اس کی والدہ سے بہتر ہیں اور میں اس سے بہتر ہوں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ کے نانا اس کے دادا سے بہتر ہیں ، تو آپ نے ٹھیک کہا: ہے اللہ کے رسول سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بہتر ہیں جہاں تک آپ نے یہ بات ذکر کی ہے کہ آپ کی والدہ اس کی ماں سے بہتر ہے ، تو آپ نے یہ بھی سچ کہا: ہے اللہ کے رسول کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مجدل کی بیٹی ( یعنی یزید کی ماں ) سے بہتر ہیں جہاں تک آپ نے یہ بات ذکر کی ہے آپ کے والد اس کے باپ سے بہتر ہیں ، تو آپ کے والد نے اس کے والد کے ساتھ قرعہ اندازی کی ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کے مقابلے میں اس کے والد کے حق میں فیصلہ دیدیا جہاں تک آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ اس سے بہتر ہیں ، تو یہ آپ سے زیادہ سمجھ دار اور زیادہ عقل مند ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے عوض میں آپ جیسے ہزار فرد مل جائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ربیع ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ایک ایسا شیخ ہے جو معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ربیع ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ایک ایسا شیخ ہے جو معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (356/19)»