کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کلونجی ، شہد ، کھنبی اور دیگر چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 8295
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اشْتَكَى تَقَمَّحَ كَفًّا مِنْ شُونِيزَ ، وَيَشْرَبُ عَلَيْهِ مَاءً وَعَسَلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تھے ، تو مٹھی بھر کلونجی لے کر ، اس پر شہد اور پانی پی لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8295
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (109)»
حدیث نمبر: 8296
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي اثْنَيْنِ وَأَرْبَعِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى الْمَقَامِ ، وَهُمْ خَلْفَهُ جُلُوسٌ يَنْتَظِرُونَهُ ، فَلَمَّا صَلَّى أَهْوَى بِيَدِهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَثَارُوا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ اجْلِسُوا ، فَجَلَسُوا ، فَقَالَ : ¤ " رَأَيْتُمُونِي حِينَ فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي أَهْوَيْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ عُرِضَتْ عَلَيَّ فَلَمْ أَرَ مِثْلَ مَا فِيهَا ، وَإِنَّهَا مَرَّتْ بِي خُصْلَةٌ مِنْ عِنَبٍ فَأَعْجَبَتْنِي ، فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا لِآخُذَهَا ، فَسَبَقَتْنِي ، وَلَوْ أَخَذْتُهَا لَغَرَزْتُهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ حَتَّى تَأْكُلُوا مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْكَمْأَةَ دَوَاءُ الْعَيْنِ ، وَأَنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ الْتِي تَكُونُ فِي الْمِلْحِ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا الْمَوْتَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْإِمَامَ أَحْمَدَ قَالَ : سَمِعَ زُهَيْرَ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، وَصَالِحَ بْنَ حَيَّانَ فَجَعَلَهُمَا وَاحِدًا . قُلْتُ : وَاصِلٌ ثِقَةٌ ، وَصَالِحُ بْنُ حَيَّانَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِنْ رِوَايَةِ وَاصِلٍ فِي الظَّاهِرِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَقَدْ رَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ مِنْ رِوَايَةِ صَالِحٍ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیالیس افراد موجود تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے یہ لوگ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے آپ کا انتظار کر رہے تھے جب آپ نے نماز مکمل کر لی ، تو آپ نے اپنا ہاتھ اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان موجود جگہ کی طرف بڑھایا یوں جیسے آپ کچھ پکڑنا چاہ رہے ہوں جب آپ اپنے اصحاب کی طرف مڑے ، تو وہ لوگ اٹھنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کی طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھے رہو وہ لوگ بیٹھے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگوں نے مجھے دیکھا کہ میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے اپنا ہاتھ خانہ کعبہ کی طرف بڑھایا یوں جیسے میں کچھ پکڑنا چاہتا ہوں لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کو میرے سامنے پیش کیا گیا میں نے اس میں موجود چیزوں جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی پھر میرے سامنے انگوروں کا ایک گچھہ آیا وہ مجھے اچھا لگا میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ میں اسے پکڑ لوں لیکن وہ میرے ہاتھ نہیں آیا اگر میں اسے پکڑ لیتا اور اسے تمہارے درمیان گاڑ دیتا تو تم جنت کے پھل کھاتے رہتے تم لوگ یہ بات جان لو کہ کھنبی آنکھ کے لئے دواء ہے ، اور عجوہ جنت کے پھلوں میں سے ہے ، اور یہ سیاہ دانہ ( کلونجی ) جو نمک میں ہو ، یہ موت کے علاوہ ہر بیماری کی دواء ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام أحمد بن حنبل فرماتے ہیں : زہیر نے واصل بن حیان سے سماع کیا ہے ، اور صالح بن حیان سے سماع کیا ہے ، تو انہوں نے ان دونوں کو ایک ہی فرد قرار دیدیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں واصل ثقہ ہے ، اور صالح بن حیان ضعیف ہے ، اور
یہ روایت واصل کی ہے ، بظاہر یہی لگتا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ انہوں نے
یہ روایت اختصار کے ساتھ صالح کی ساتھ صالح کی نقل کردہ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8296
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (351/5)»
حدیث نمبر: 8297
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیاہ دانہ ، موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفاء ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (491)»
حدیث نمبر: 8298
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " الْكَمْأَةُ مِنَ السَّلْوَى ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنَ الْمَنِّ " . وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ فِي الْأَطْعِمَةِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” کھنبی ، سلوی کا حصہ ہے ، اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” من کا حصہ ہے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سعید بن زید کے حوالے سے منقول حدیث کھانے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح