کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: غبیراء ، فضیخ ، دو مختلف چیزوں سے ملا کر بنائی گئی شراب اور طلاء کا حکم
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ ، وَالْكُوبَةَ ، وَالْقِنِّينِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ فَإِنَّهَا ثُلْثُ خَمْرِ الْعَالَمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو زَرْعَةِ ، وَالنَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک میرے پروردگار نے مجھ پر شراب کو حرام قرار دیا ہے ، اور کوبہ ( طبل ) قنین ( جوئے کا مخصوص رومی کھیل ) کو حرام قرار دیا ہے ، اور تم لوگ غبیراء سے بچ کے رہنا کیونکہ وہ تمام جہان کی شرابوں کا ایک تہائی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ۔ امام ابوزرعہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ۔ امام ابوزرعہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ ، وَالسُّنَنَ ، وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَلَا تُطْعِمُوهُ " . ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا فَقَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلَا تُطْعِمُوهُ " . ثُمَّ أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا فَسَأَلُوهُ عَنْهُ قَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلَا تُطْعِمُوهُ " قَالُوا : فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا قَالَ : " مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسُنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سنتوں اور فرائض کی تعلیم دی پھر ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری ایک شراب ہے ، جسے ہم گندم اور جو کے ذریعے تیار کرتے ہیں راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : غبیراء ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے استعمال نہ کرو اس کے دو دن بعد پھر ان لوگوں نے اس کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غبیراء ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے استعمال نہ کرو پھر جب ان لوگوں نے روانگی کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غبیراء ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے استعمال نہ کرو انہوں نے عرض کی : لوگ اسے نہیں چھوڑیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اسے نہیں چھوڑے گا اس کی گردن اڑا دینا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ خَمْرُنَا يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ ، وَحُرِّمَتْ يَوْمَ حُرِّمَتْ وَمَا هِيَ إِلَّا فَضِيخُكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ان دنوں ہماری شراب فضیخ ہوتی تھی اور جس دن اسے حرام قرار دیا گیا اس دن فضیخ ہی استعمال ہو رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَفِي بَطْنِهِ رِيحُ الْفَضِيخِ فَضَحَهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُبَارَكٌ أَبُو عَمْرٍو وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جو شخص مر جائے ، اور اس کے پیٹ میں فضیخ کی بو موجود ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے اسے رسوائی کا شکار کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک ابوعمرو ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک ابوعمرو ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الشَّرَابِ فَقَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَكَانَتْ كَثِيرَةَ التَّمْرِ فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَضِيخَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے شراب کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : ہم لوگ مدینہ منورہ میں ہوتے تھے وہاں کھجوریں زیادہ ہوتی تھی ، تو اللہ نے فضیخ کو حرام قرار دیا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلْتُ أُرِيقُهَا وَأَقُولُ : هَذَا آخِرُ الْعَهْدِ بِالْخَمْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تو میں نے اسے بہانا شروع کیا اور ساتھ یہ کہنا شروع کیا : یہ شراب کے ساتھ آخری واسطہ تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْخَلِيطَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ رُدَيْحٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی شراب ملانے ( یا دو قسم کی چیزوں کو ملا کر شراب تیار کرنے ) سے منع کیا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ردیح ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ردیح ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ يَنْبِذُ التَّمْرَ عَلَى حِدَةٍ وَالْبُسْرَ عَلَى حِدَةٍ وَيَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مَسْعُودٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ تر کھجور کی نبیذ علیحدہ تیار کرتے تھے اور خشک کھجور کی نبیذ علیحدہ تیار کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ان میں سے ہر ایک کی نبیذ الگ سے تیار کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومسعود عبدالرحمن بن حسن ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومسعود عبدالرحمن بن حسن ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کھجور اور کشمش کو جمع کیا جائے ( یعنی دونوں کو ملا کر نبیذ تیار کی جائے گی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ - وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ جَمِيعًا وَقَالَ : " انْبِذْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبُقِّيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معبد بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور اور کشمش ملا کر ( نبیذ تیار کرنے ) سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، اور یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ان میں سے ہر ایک کی الگ سے نبیذ تیار کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّهِ - وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَنْتَبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معبد بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کا بیان نقل کرتے ہیں : جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھجور اور کشمش کی نبیذ اکھٹی تیار نہ کرو ان میں سے ہر ایک کی نبیذ الگ سے تیار کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْخَلِيطَيْنِ قُلْتُ : وَمَا هُمَا ؟ قَالَ : " التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ " . ¤ وَكَانَتْ أُمُّ مُغِيثٍ جَدَّةُ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزیں ملا کر ( نبیذ تیار کرنے ) سے منع کرتے ہوئے سنا ہے میں نے دریافت کیا : وہ دو چیزیں کیا تھیں ؟ انہوں نے جواب دیا : کھجوریں اور کشمش ۔ سیدہ ام مغیث رضی اللہ عنہا ربیعہ بن عبدالرحمن کی دادی ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَا يُكْفَأُ الْإِسْلَامُ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ فِي شَرَابٍ يُقَالُ لَهُ : الطِّلَاءُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَحْمَدُ : ثِقَةٌ ، وَذِكْرُهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَقَالَ : لَمْ أَرَ أَحَدًا صَرَّحَ بِضَعْفِهِ ، وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے پہلے اسلام کو اوندھا کر دیا جائے گا ، جس طرح شراب کے برتن کو اوندھا کیا جاتا ہے ، جس کا نام طلا ، ہوتا ہے “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن ابوسلیمان ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : یہ ثقہ ہے ابن عدی نے اس کا ذکر کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے اس کے ضعیف ہونے کی صراحت کی ہو مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن ابوسلیمان ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : یہ ثقہ ہے ابن عدی نے اس کا ذکر کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے اس کے ضعیف ہونے کی صراحت کی ہو مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔