مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْغُبَيْرَاءِ ، وَالْفَضِيخِ ، وَالْخَلِيطَيْنِ ، وَالطِّلَاءِ . باب: غبیراء ، فضیخ ، دو مختلف چیزوں سے ملا کر بنائی گئی شراب اور طلاء کا حکم
حدیث نمبر: 8100
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَا يُكْفَأُ الْإِسْلَامُ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ فِي شَرَابٍ يُقَالُ لَهُ : الطِّلَاءُ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَحْمَدُ : ثِقَةٌ ، وَذِكْرُهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَقَالَ : لَمْ أَرَ أَحَدًا صَرَّحَ بِضَعْفِهِ ، وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے پہلے اسلام کو ، جس طرح برتن کو اوندھا کیا جاتا ہے ، اس طرح ایک مشروب کے ذریعے اوندھا کیا جائے گا ، جس کا نام طلا ، ہوتا ہے “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سلیمان ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : یہ ثقہ ہے ابن عدی نے اس کا ذکر کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے اس کے ضعیف ہونے کی صراحت کی ہو مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔