عَنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمْ نَحَرُوا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكَلُوهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، قَالَ الْبَزَّارُ : هَكَذَا رَوَاهُ شَبَابَةُ عَنِ الْمُغَيَّرَةِ عَنْ هِشَامٍ عَنِ أَبِيهِ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : وَهَذَا الْحَدِيثُ يَرْوِيهِ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھا لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد زکریا بن یحیی بن ایوب سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام بزار کہتے ہیں : شبابہ نے مغیرہ کے حوالے سے ہشام کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : اس روایت کو ابواسامہ ہشام کے حوالے سے فاطمہ بنت منذر کے حوالے سے سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے ( جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8050
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2858)»
وَعَنِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : ذَبَحْنَا فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ نَحْنُ وَأَهْلُ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهُ : نَحْنُ وَأَهْلُ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ہم نے گھوڑا ذبح کیا اور ہم نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے اس کا گوشت کھایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” ہم نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8051
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (80/24)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلُحُومِ الْخَيْلِ أَنْ تُؤْكَلَ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : النَّهْيُ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا اور آپ نے گھوڑوں کے گوشت کے بارے میں حکم دیا تھا کہ اسے کھایا جا سکتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں یہ بات مذکور ہے کہ پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کر دیا گیا تھا اس میں گھوڑوں کے گوشت کے بارے میں اجازت دینے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عبید محاربی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8052
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12802)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ فَذَبَحُوهَا وَأَغْلَوْا مِنْهَا الْقُدُورَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ جَابِرٌ : فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقِ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ هَذَا وَأَطْيَبُ " . ¤ قَالَ : فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي قَالَ : فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ، وَلُحُومَ الْخَيْلِ ، وَالْبِغَالِ ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ، وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ ، وَالْخِلْسَةَ ، وَالنُّهْبَةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ السَّدُوسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خبیر کے موقع پر لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی انہوں نے گدھے پکڑے اور انہیں ذبح کیا اور ہنڈیائیں چڑھا دیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم ہنڈیاؤں کو الٹ دیں آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں ایسا رزق عطا کرے گا ، جو تمہارے لئے اس سے زیادہ حلال اور زیادہ پاکیزہ ہو گا راوی کہتے ہیں : تو اس دن ہم نے ہنڈیائیں الٹا دیں حالانکہ وہ جوش مار رہی تھیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت گھوڑوں کے گوشت اور خچروں کے گوشت اور ہر نوکیلے دانتوں والے درندے اور نوکیلے پنچوں والے پرندے کے گوشت کھانے کو حرام قرار دیا آپ نے مجثمہ ، خلسہ اور نہبہ ( یعنی اچک کر یا لوٹ لی جانے والی چیز کو استعمال کرنے ) کو حرام قرار دیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد عمر بن حفص سدوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8053
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2857)»