حدیث نمبر: 8053
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ فَذَبَحُوهَا وَأَغْلَوْا مِنْهَا الْقُدُورَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ جَابِرٌ : فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقِ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ هَذَا وَأَطْيَبُ " . ¤ قَالَ : فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي قَالَ : فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ، وَلُحُومَ الْخَيْلِ ، وَالْبِغَالِ ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ، وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ ، وَالْخِلْسَةَ ، وَالنُّهْبَةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ السَّدُوسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خبیر کے موقع پر لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی انہوں نے گدھے پکڑے اور انہیں ذبح کیا اور ہنڈیائیں چڑھا دیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم ہنڈیاؤں کو الٹ دیں آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں ایسا رزق عطا کرے گا ، جو تمہارے لئے اس سے زیادہ حلال اور زیادہ پاکیزہ ہو گا راوی کہتے ہیں : تو اس دن ہم نے ہنڈیائیں الٹا دیں حالانکہ وہ جوش مار رہی تھیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت گھوڑوں کے گوشت اور خچروں کے گوشت اور ہر نوکیلے دانتوں والے درندے اور نوکیلے پنچوں والے پرندے کے گوشت کھانے کو حرام قرار دیا آپ نے مجثمہ ، خلسہ اور نہبہ ( یعنی اچک کر یا لوٹ لی جانے والی چیز کو استعمال کرنے ) کو حرام قرار دیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد عمر بن حفص سدوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8053
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2857)»