عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْحَبَّةَ مِنَ الرُّمَّانِ فَيَأْكُلُهَا قِيلَ لَهُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ لِمَ تَفْعَلُ هَذَا ؟ قَالَ : إِنَّهُ بَلَغَنِي : " أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ رُمَّانَةٌ تُلَقَّحُ إِلَّا بِحَبَّةٍ مِنْ حَبِّ الْجَنَّةِ " . فَلَعَلَّهَا هَذِهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ انار کا دانا لے کر اسے کھایا کرتے تھے ان سے کہا: گیا : اے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : زمین میں جو بھی انار موجود ہوتا ہے اس میں جنت کے دانوں میں سے کوئی ایک دانا موجود ہوتا ہے ، تو ہو سکتا ہے وہ یہی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت پہنچی ہے : زمین میں جو بھی انار موجود ہوتا ہے اس میں جنت کے دانوں میں سے کوئی ایک دانا موجود ہوتا ہے ، تو ہو سکتا ہے وہ یہی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رَبِيعَةَ بِنْتِ عِيَاضٍ الْكِلَابِيَّةِ قَالَتْ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : كُلُوا الرُّمَّانَ بِشَحْمِهِ فَإِنَّهُ دِبَاغُ الْمَعِدَةِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدہ ربیعہ بنت عیاض کلابیہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : انار کو اس کے گودے ( یعنی اندر کی سفید جھلی ) سمیت کھاؤ ! کیونکہ یہ معدے کی دباغت ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔