کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: برتن اور انگلیوں کو چاٹ لینا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ ثُمَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ لَا تَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِكَ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِكَ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے پھر وہ یہ بات بیان کرتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ یہ نہیں جانتے کہ تم لوگوں کے کھانے کے کون سے حصے میں برکت موجود ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور ان کے الفاظ یہ ہیں ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کھانا کھائے ، تو اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ پونچھے جب تک اسے چاٹ نہیں لیتا یا چٹوا نہیں لیتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” تم یہ بات نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7937
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2885) اخرجه احمد فى المسند (4514)»
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَعِقَ الصَّحْفَةَ وَلَعِقَ أَصَابِعَهُ أَشْبَعَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ وَضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص برتن چاٹ لیتا ہے ، اور انگلیاں چاٹ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سیر کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق سے نقل کی ہے ۔ اور امام ذہبی نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7938
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (260/18)»
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَرْسَلَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ : كَيْفَ تَأْكُلُ وَتَشْرَبُ ؟ قَالَ : أَشْرَبُ حَتَّى إِذَا انْقَطَعَ النَّفَسُ رَفَعْتُ الْإِنَاءَ عَنْ فَمِي ، وَإِذَا أَكَلْتُ لَعِقْتُ أَصَابِعِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَجُبَيْرٌ وَأَبَوْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسُنٌ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن مثنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں عبدالملک بن مروان نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر ان سے دریافت کیا : آپ کیسے کھاتے ہیں اور کیسے پیتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک پیتا رہتا ہوں جب تک سانس منقطع نہیں ہو جاتا پھر میں اپنے منہ سے برتن ہٹا لیتا ہوں ، اور جب میں کھاتا ہوں ، تو اپنی انگلیاں چاٹ لیتا ہوں کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کچھ کھائے ، تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کون سے حصے میں برکت موجود ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ جبیر اور اس کے والد دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7939
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4918)»
وَعَنْ أَبِي الْمَضَاءِ قَالَ : قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : كَيْفَ تَأْكُلُ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ " . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْمَضَاءِ وَابْنُهُ جَمِيلٌ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابومضاء بیان کرتے ہیں : مروان بن حکم نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کیسے کھاتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کھانا کھائے ، تو وہ اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ پوچھے جب تک اپنی انگلیاں نہیں چاٹ لیتا کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کون سے حصے میں اس کے لئے برکت رکھی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ابومضاء اور اس کا بیٹا جمیل میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے یا صحیح ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عمارہ انصاری ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7940
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5434)»
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ بِأَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ ، بِالْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا وَيَلْعَقُ الْوُسْطَى ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا ثُمَّ الْإِبْهَامَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأُذُنِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تین انگلیوں کے ذریعے کھاتے ہوئے دیکھا ہے انگوٹھا اور اس کے ساتھ والی دو انگلیاں ( کھانے سے فارغ ہو کر ) آپ سب سے پہلے درمیان والی انگلی کو چاٹتے تھے پھر اس کے بعد والی کو اور پھر انگوٹھے کو ( چاٹ لیتے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن ابراہیم اذنی ہے ، اور ایک راوی محمد بن کعب بن عجرہ ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7941
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1670)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ وَأَبِي دَاوُدَ مِنْ فِعْلِهِ : كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کچھ کھائے ، تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام مسلم اور امام ابوداؤد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے طور پر نقل کی ہے کہ ” جب آپ کھانا کھاتے تھے ، تو تینوں انگلیاں چاٹ لیتے تھے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7942
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَكَلَ [ طَعَامًا ] لَعِقَ أَصَابِعَهُ وَقَالَ : " إِنَّ لَعْقَ الْأَصَابِعِ بَرَكَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ عِنْدُ مُسْلِمٍ وَالتِّرْمِذِيِّ مِنْ قَوْلِهِ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تھے ، تو اپنی انگلیاں چاٹ لیتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے : انگلیوں کو چاٹنا برکت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عمارہ انصاری ہے ، اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام مسلم اور امام ترمذی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی شکل میں نقل کی ہے : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کچھ کھائے ، تو اسے اپنی انگلیاں چاٹ لینی چاہئیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس میں سے کس میں برکت ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِلَعْقِ الصَّحْفَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَدُوقٌ يُخْطِئُ كَثِيرًا فَإِذَا قِيلَ لَهُ لَمْ يَقْبَلْ ، وَكَانَ النَّسَائِيُّ حَسَنَ الرَّأْيِ فِيهِ [ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کو چاٹ لینے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، اور بکثرت غلطی کرتا ہے ، جب اس سے کہا: جاتا ہے ، تو یہ اصلاح کو قبول نہیں کرتا امام نسائی رحمہ اللہ کی اس کے بارے میں رائے اچھی تھی اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7944
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11395)»