حدیث نمبر: 7939
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَرْسَلَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ : كَيْفَ تَأْكُلُ وَتَشْرَبُ ؟ قَالَ : أَشْرَبُ حَتَّى إِذَا انْقَطَعَ النَّفَسُ رَفَعْتُ الْإِنَاءَ عَنْ فَمِي ، وَإِذَا أَكَلْتُ لَعِقْتُ أَصَابِعِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَجُبَيْرٌ وَأَبَوْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسُنٌ . ¤
محمد محی الدین

جبیر بن مثنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں عبدالملک بن مروان نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر ان سے دریافت کیا : آپ کیسے کھاتے ہیں اور کیسے پیتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک پیتا رہتا ہوں جب تک سانس منقطع نہیں ہو جاتا پھر میں اپنے منہ سے برتن ہٹا لیتا ہوں ، اور جب میں کھاتا ہوں ، تو اپنی انگلیاں چاٹ لیتا ہوں کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کچھ کھائے ، تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کون سے حصے میں برکت موجود ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ جبیر اور اس کے والد دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7939
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4918)»