کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کھانے کے بعد آدمی کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 7945
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَيْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَيْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ ، وَلَا مُوَدَّعٍ ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا کر فارغ ہوتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! ہر طرح کی حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تو نے کھلایا ہے ، تو نے ہی پلایا ہے ، تو نے سیر کیا ہے ، اور تو نے سیراب کیا ہے ، تو ہر طرح کی حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، جو ایسی نہ ہو کہ جسے قبول نہ کیا جائے ، اور جو ایسی نہ ہو کہ اسے رخصت کر دیا جائے ، اور نہ ہی ایسی ہو کہ تجھ سے بے نیاز ہوا جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7945
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (138/4)»
حدیث نمبر: 7946
وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ : تَعَشَّيْتُ مَعَ أَبِي بُرْدَةَ فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ فَشِبَعَ وَشَرِبَ فَرَوِيَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي وَأَشْبَعَنِي وَسَقَانِي وَأَرْوَانِي ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
حماد بن ابوسلیمان بیان کرتے ہیں : میں نے ( سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ) ابوبردہ کے ساتھ رات کا کھانا کھایا ، تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میرے والد سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ( یعنی سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ) نے مجھے بیان کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کھانا کھائے ، اور سیر ہو جائے ، اور پیئے ، اور سیراب ہو جائے ، تو وہ یہ پڑھے : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے مجھے کھلایا تو مجھے سیر کر دیا اور پلایا تو مجھے سیراب کر دیا “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو وہ شخص گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7946
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7246)»
حدیث نمبر: 7947
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَآوَانَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْعَمَ عَلَيْنَا وَأَفْضَلَ ، نَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ أَنْ تُجِيرَنَا مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بَعْضِ أَهْلِ مَكَّةَ . وَابْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ وَشَيْخُهُ لَمْ يُسَمَّ وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ کھانا کھا کر فارغ ہوتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں کھلایا اور جس نے ہمیں پلایا ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہماری کفایت کی اور جس نے ہمیں پناہ دی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہم پر نعمت کی اور ہم پر فضل کیا ہم تجھ سے تیری رحمت کے وسیلے سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ، تو ہمیں جہنم سے بچا لے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے محمد بن ابولیلی کی بعض اہل مکہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور ابن ابولیلیٰ کا حافظ خراب ہے ، اور اس کے استاد کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7947
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2887)»
حدیث نمبر: 7948
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ فَرَاغِهِ مِنْ طَعَامِهِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَيْتَ [ وَأَشْبَعْتَ ] وَأَرْوَيْتَ ، لَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ ، وَلَا مُوَدَّعٍ ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ رَبَّنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ نے کھانے سے فارغ ہو کر یہ پڑھا : ” اے اللہ ! ہر طرح کی حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، تو نے کھلایا ہے ، اور تو نے پلایا ہے ، تو نے سیر کیا ہے ، اور تو نے سیراب کیا ہے حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، جس کو مسترد نہ کیا جائے ، اُسے رخصت نہ کیا جائے ، اور اے ہمارے پروردگار ! تجھ سے بے نیاز نہ ہوا جائے “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ بن وجیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7948
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3372)»
حدیث نمبر: 7949
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ : إِنَّمَا سُمِّيَ نُوحٌ عَبْدًا شَكُورًا لِأَنَّهُ إِذَا أَكَلَ وَشَرِبَ حَمِدَ اللَّهَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَتَابِعِيُّهُ سَعْدُ بْنُ سِنَانٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن مسعود ثقفی بیان کرتے ہیں : سیدنا نوح علیہ السلام کا نام شکر گزار بندہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ جب وہ کھاتے تھے اور پیتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس میں تابعی سعد بن سنان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7949
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5420)»
حدیث نمبر: 7950
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ : كَانَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا الْمُؤْنَةَ وَأَوْسَعَ لَنَا الرِّزْقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن سوید بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہماری ضرورت کو پورا کیا اور ہمیں رزق میں وسعت عطا کی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7950
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6055)»