مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ لَعْقِ الصَّحْفَةِ وَالْأَصَابِعِ . باب: برتن اور انگلیوں کو چاٹ لینا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ ثُمَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ لَا تَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِكَ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِكَ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے پھر وہ یہ بات بیان کرتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ یہ نہیں جانتے کہ تم لوگوں کے کھانے کے کون سے حصے میں برکت موجود ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور ان کے الفاظ یہ ہیں ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کھانا کھائے ، تو اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ پونچھے جب تک اسے چاٹ نہیں لیتا یا چٹوا نہیں لیتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” تم یہ بات نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔