کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس بات کی ممانعت کہ کوئی شخص ( طویل سفر سے واپسی پر ) رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس جائے
حدیث نمبر: 7735
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً أَوْ عِشَاءً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِعَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ سَمَاعًا مِنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( طویل سفر سے واپسی پر ) رات کے وقت اپنے گھر نہیں جایا کرتے تھے آپ دن کے وقت یا شام کے وقت چلے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ میں نے عبدالصمد بن عبدالوارث کے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ میں نے عبدالصمد بن عبدالوارث کے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔
حدیث نمبر: 7736
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ الْعَقِيقَ فَنَهَى عَنْ طُرُوقِ النِّسَاءِ [ اللَّيْلَةَ الَّتِي يَأْتِي فِيهَا ] فَعَصَاهُ رَجُلَانِ فَكِلَاهُمَا رَأَى مَا يَكْرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیق کے مقام پر پڑاؤ کیا اور آپ نے رات کے وقت خواتین کے پاس جانے سے منع کر دیا دو آدمیوں نے آپ کی نافرمانی کی ، تو ان دونوں نے ناپسندیدہ صورت حال پائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7737
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص ( طویل سفر سے واپسی پر ) رات کے وقت عشاء کے بعد اپنی بیوی کے پاس جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ زہری نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ زہری نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 7738
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ أَنَّهُ قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ فَتَعَجَّلَ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ فَأَخَذَ السَّيْفَ فَقَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمْ يَلْقَ ابْنَ رَوَاحَةَ . . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک سفر سے واپس آئے ، اور اپنی بیوی کے پاس چلے گئے گھر میں چراغ موجود تھا ، اور ان کی بیوی کے ساتھ کوئی موجود تھا انہوں نے تلوار پکڑ لی ، تو ان کی بیوی نے کہا: آپ پیچھے رہیں یہ فلاں عورت ہے جو میری کنگھی کیا کرتی ہے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کر دیا کہ کوئی شخص ( طویل سفر سے واپسی پر ) اپنی بیوی کے پاس جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلمہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلمہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی ہے ۔
حدیث نمبر: 7739
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا " يَعْنِي إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ مِنْ سَفَرٍ لَا يَأْتِي أَهْلَهُ إِلَّا نَهَارًا ، قَالَ : فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَافِلًا مِنْ سَفَرٍ وَذَهَبَ رَجُلَانِ فَسَبَقَا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات کے وقت خواتین کے پاس نہ جاؤ “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی جب کوئی سفر سے آئے ، تو وہ صرف دن کے وقت اپنی بیوی کے پاس جائے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس تشریف لائے تھے دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد بھی اپنی بیویوں کے پاس چلے گئے ، تو ان میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ایسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ایسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔