حدیث نمبر: 7724
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَغَارُ لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ فَلْيَغَرْ لِنَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے حوالے سے غیرت کرتا ہے ، تو اسے ( یعنی مومن بندے کو ) اپنی ذات کے حوالے سے غیرت کرنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ثعلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ثعلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7725
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغَيْرَةُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْمِذَاءُ مِنَ النِّفَاقِ " قَالَ : قُلْتُ : مَا الْمِذَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِي لَا يَغَارُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو مَرْجُومٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غیرت ایمان کا حصہ ہے ، اور مذاء نفاق کا حصہ ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : مذاء سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ شخص جو غیرت نہیں کرتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومرجوم ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومرجوم ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7726
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي لَغَيُورٌ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مِنْ عِبَادِهِ الْغَيُورَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے ، اور بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں غیور بندوں کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7727
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُمَرُ غَيُورٌ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عمر غیور ہے اور میں ، اس سے زیادہ غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ غیور ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مقدام بن داؤد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مقدام بن داؤد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7728
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَغَارُ ؟ قَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَغَارُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ غَيْرَتِهِ نَهَى عَنِ الْفَوَاحِشِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ غیور نہیں ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے ، اور اس کے غیور ہونے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اس نے فواحش سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کامل ابوالعلاء ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ویسے وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کامل ابوالعلاء ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ویسے وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7729
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا أَنْتَظِرُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةٍ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " قَالَ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ رَأَيْتُهُ لَعَاجَلْتُهُ بِالسَّيْفِ ، فَقَالَ : " انْظُرُوا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ إِنَّ سَعْدًا لَغَيُورٌ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر وہ چار گواہ نہیں لے کر آتے ہیں “ ۔ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں کسی شخص کو دیکھوں ، تو کیا میں اس بات کا انتظار کروں گا کہ پہلے چار گواہ لے کے آؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جی ہاں ، تو انہوں نے کہا: جی نہیں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اگر میں ایسے شخص کو دیکھوں گا ، تو میں اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! دیکھو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ سعد غیور ہے ، اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7730
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ) قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ : أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا ، وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ فَاجْتَرَأَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ ، وَأَنَّهَا مِنَ اللَّهِ ، وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنْ لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا قَدْ تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ ، وَلَا أُحَرِّكَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى أَطْوَلُ مِنْهُ ، وَقَدْ أَذْكُرُهُ فِي اللِّعَانِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام عائد کرتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لے کے آتے ہیں ، تو تم انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور تم ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا “ ۔ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار تھے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم سن نہیں رہے کہ تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ انہیں ملامت نہ کریں وہ ایک غیور شخص ہیں اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمیشہ کنواری لڑکی کے ساتھ ہی شادی کی ہے ، اور جب بھی انہوں نے کسی بیوی کو طلاق دی ، تو ہم میں سے کسی کی یہ جرات نہیں ہوئی کہ اس خاتون کے ساتھ شادی کرے اس کی وجہ ان کے مزاج کی شدت ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ بات حق ہے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر میں کسی شخص کو پاتا ہوں کہ وہ عورت کے زانوں کے قریب پہنچ چکا ہے ، تو مجھے یہ حق نہیں ہو گا کہ اس پر حملہ کروں یا اسے حرکت دوں جب تک میں چار گواہ نہیں لے آتا اللہ کی قسم ! میرے چار گواہ لانے تک وہ اپنی حاجت پوری کر چکا ہو گا “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے میں اسے لعان سے متعلق باب میں ذکر کروں گا ، اگر اللہ نے چاہا اس روایت کا مدار عباد بن منصور پر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے میں اسے لعان سے متعلق باب میں ذکر کروں گا ، اگر اللہ نے چاہا اس روایت کا مدار عباد بن منصور پر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7731
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي رَجُلًا أَضْرِبْهُ بِسَيْفِي ؟ وَقَالَ : " أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ " قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ وَالشُّهَدَاءُ " [ قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ قَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ وَالشُّهَدَاءُ ] ، أَيَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَذَا سَيِّدُكُمُ اسْتَفَزَّتْهُ الْغَيْرَةُ حَتَّى خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً قَطُّ قَدِرَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا لِغَيْرَتِهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَعْدٌ غَيُورٌ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " قَالَ رَجُلٌ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يَغَارُ اللَّهُ ؟ قَالَ : عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن شرحبيل بن عمرو بن سعید بن سعد بن عبادہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے پیٹ پر پاؤں گا ، تو اپنی تلوار کے ذریعے اسے مار دوں گا ، انہوں نے یہ بھی کہا: تلوار سے زیادہ واضح گواہی اور کیا ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں ، پھر بعد میں انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی کتاب کے مطابق ) عمل کیا جائے گا ) اور گواہ پیش کیے جائیں گے ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تلوار سے زیادہ واضح گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب ( کے مطابق عمل کیا جائے گا ) اور گواہ ( پیش کیے جائیں گے ) اے انصار کے گروہ یہ تمہارا سردار اسے غصے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یہاں تک کہ یہ اللہ کی کتاب ( کے حکم ) کے برخلاف کرنا چاہتا ہے راوی کہتے ہیں : تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مزاج کے تیز ہیں انہوں نے جب بھی کسی خاتون کو طلاق دی ، تو ان کے مزاج کی تیزی کی وجہ سے ہم میں سے کوئی اس خاتون کے ساتھ شادی نہیں کر سکا راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد غیور ہے ، اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کس چیز کے حوالے سے غصے میں آتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے جانے والے شخص کے حوالے سے ، جب اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے پاس جایا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7732
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كَثُرَ عَلَى مَارِيَةَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ فِي قِبْطِيٍّ ابْنِ عَمٍّ لَهَا كَانَ يَزُورُهَا وَيَخْتَلِفُ إِلَيْهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ هَذَا السَّيْفَ فَانْطَلِقْ ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ عِنْدَهَا فَاقْتُلْهُ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُونُ فِي أَمْرِكَ إِذَا أَرْسَلْتَنِي كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ لَا يَثْنِينِي شَيْءٌ حَتَّى أَمْضِيَ لِمَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَمِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ ؟ قَالَ : " بَلِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ " فَأَقْبَلْتُ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَوَجَدْتُهُ عِنْدَهَا فَاخْتَرَطْتُ السَّيْفَ فَلَمَّا رَآنِي أَقْبَلْتُ نَحْوَهُ عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُهُ فَأَتَى نَخْلَةً فَرَقِيَ ، ثُمَّ رَمَى بِنَفْسِهِ عَلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ شَغَرَ بِرِجْلِهِ فَإِذَا هُوَ أَجَبُّ أَمْسَحُ مَا لَهُ قَلِيلٌ ، وَلَا كَثِيرٌ فَغَمَدْتُ السَّيْفَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يَصْرِفُ عَنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الضِّيَاءُ فِي أَحَادِيثِهِ الْمُخْتَارَةِ عَلَى الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک قبطی شخص اُم ابراہیم سیدہ ماریہ کے پاس بکثرت آیا جایا کرتا تھا وہ ان کا چچا زاد تھا ، اور وہ ان سے ملنے آیا کرتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ تلوار لو اور جاؤ اور اگر تم اس شخص کو اس عورت کے پاس پاؤ تو اسے قتل کر دینا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اس حکم کے حوالے سے میں ایک گرم کیے ہوئے سکے کی مانند ہو گیا ہوں کوئی بھی چیز مجھے واپس نہیں کرے گی جب تک میں اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتا جو آپ نے مجھے دیا ہے یا پھر یہ ہے کہ حاضر شخص وہ چیز دیکھ لیتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( یعنی میں اپنی صواب دید پر بھی فیصلہ کر سکتا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ حاضر شخص وہ چیز دیکھ لیتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( یعنی تم اپنی صواب دید پر بھی فیصلہ کر سکتے ہو ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں تلوار لے کے نکل کھڑا ہوا میں نے اس شخص کو اس خاتون کے پاس پایا میں نے تلوار سونت لی جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اس کی طرف آ رہا ہوں ، تو اسے میرے ارادے کا اندازہ ہو گیا وہ ایک درخت کے پاس آیا اور اس پر چڑھ گیا پھر اس نے اس سے چھلانگ لگائی ، تو وہ گدی کے بل گرا اس کی ٹانگیں پھیل گئی ، تو وہ ایک ایسا شخص تھا جس کی شرمگاہ نہیں تھی نہ تھوڑی نہ زیادہ میں نے تلوار میان میں رکھ لی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہم اہل بیت سے اس چیز کو پھیر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ضیاء مقدسی نے یہ کتاب الاحادیث المختارہ میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ضیاء مقدسی نے یہ کتاب الاحادیث المختارہ میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 7733
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَارِيَةَ - جَارِيَةٍ - وَقَعَ فِي نَفْسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى أَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا إِبْرَاهِيمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ سیدہ مازیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پیدا ہوئے جو ایک کنیز تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور بولے : اے ابوابراہیم ! آپ کو سلام ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7734
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ يُبْغِضُهَا اللَّهُ ، وَمَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ " وَقَالَ : " ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمُ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غیرت دو قسم کی ہوتی ہے ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ غیرت جو ” ریبہ “ کے بارے میں ہو ( مراد یہ ہے کہ آدمی کسی حرام چیز پر غصہ کا اظہار کر کے ) اسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور وہ غیرت جو ” ریبہ “ کے بارے میں نہ ہو ( مراد یہ ہے کہ آدمی کسی حلال چیز پر غصہ کا اظہار کر کے ) اسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، اور خود پسندی دو قسم کی ہوتی ہے ، ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، جب کوئی شخص صدقہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے ، اور جو خود پسندی ، تکبر کے طور پر ہو ، اللہ تعالی اسے ناپسند کرتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” تین قسم کے لوگوں کی دعا مستجاب ہوتی ہے ، مسافر ، والد اور مظلوم ( شخص ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔