کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص اپنی بیوی کے لئے خباثت سے راضی ہو
حدیث نمبر: 7721
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ : مُدْمِنُ الْخَمْرِ ، وَالْعَاقُّ ، وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخُبْثَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام قرار دیا ہے باقاعدگی سے شراب پینے والا ( والدین کا ) نافرمان اور دیوث جو اپنی بیوی میں خباثت کو برقرار رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7721
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5372)»
حدیث نمبر: 7722
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ أَبَدًا : الدَّيُّوثُ وَالرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرَ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا الْمُدْمِنُ الْخَمْرَ ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الدَّيُّوثُ ؟ قَالَ : " الَّذِي لَا يُبَالِي مَنْ دَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ " قُلْنَا : فَمَا الرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ ؟ قَالَ : " الَّتِي تَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسَاتِيرُ وَلَيْسَ فِيهِمْ مَنْ قِيلَ إِنَّهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین قسم کے لوگ جنت میں کبھی داخل نہیں ہوں گے ، دیوث مرد نما عورتیں اور با قاعدگی سے شراب پینے والا شخص ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جہاں تک باقاعدگی سے شراب پینے والے شخص کا تعلق ہے ۔ اس سے ، تو ہم واقف ہیں یہ دیوث کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کے پاس کون آتا ہے ہم نے عرض کی : مرد نما عورتوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں مستور راوی ہیں لیکن ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہو کہ یہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7723
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أُحَيْمِرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنَ الصُّقُورِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الصُّقُورُ ؟ قَالَ : " الَّذِي يُدْخِلُ عَلَى أَهْلِهِ الرِّجَالَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو رُزَيْنٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن احیمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن صقور سے کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صقور سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اپنی بیوی کے پاس مردوں کو لے جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابورزین باہلی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7723
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1489) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (294/14)»