کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بچے سے کب پردہ کیا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 7719
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَتْ صَبِيحَةُ احْتَلَمْتُ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " لَا تَدْخُلْ عَلَى النِّسَاءِ " فَمَا أَتَى عَلَيَّ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زُفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ صبح آئی جب مجھے احتلام ہوا تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : اب تم خواتین پر داخل نہیں ہو گے ۔ ( سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) مجھ پر اس دن سے زیادہ شدید دن کوئی نہیں آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زفر بن سلیمان ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7720
وَعَنْ سَعِيدِ ابْنِ زَيْدٍ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ فَاطِمَةُ تَكْشِفُ رَأْسَهَا إِذَا دَخَلَ الْغُلَامُ فَإِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ غَطَّتْهُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِثٍ الْبَكْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اگر کوئی بچہ گھر میں آتا تھا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سر پر کپڑا نہ بھی ہو ( تو خیال نہیں کرتی تھیں ) لیکن اگر کوئی مرد آتا تھا تو وہ سر کو ڈھانپ لیتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7720
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً