حدیث نمبر: 7715
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلْتَ عَلَى فُلَانَةَ وَأَغْلَقْتَ عَلَيْكَ بَابَهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ رَجُلًا : " أَيْنَ نَزَلْتَ ؟ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص سفر سے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم فلاں خاتون کے ہاں ٹھہرے تھے اور تم نے دروازہ بند کر دیا تھا اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : تم نے کہاں پڑاؤ کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : تم نے کہاں پڑاؤ کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7716
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ رَجُلٌ عَلَى امْرَأَةٍ إِلَّا وَعِنْدَهَا ذُو مَحْرَمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص کسی ( اجنبی اکیلی ) عورت کے پاس نہ جائے البتہ اگر اس عورت کے پاس اس کا محرم ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7717
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكَ وَالْخَلْوَةَ بِالنِّسَاءِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَلَا رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا دَخَلَ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُمَا وَلَأَنْ يَزْحَمَ رَجُلٌ خِنْزِيرًا مُتَلَطِّخًا بِطِينٍ أَوْ حَمْأَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَزْحَمَ مَنْكِبُهُ مَنْكِبَ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( نامحرم ) خواتین کے پاس خلوت میں جانے سے بچو اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب کوئی شخص ( کسی نامحرم ) عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے ، تو شیطان ان دونوں کے درمیان داخل ہوتا ہے ، اور آدمی ایسے خنزیر کے ساتھ لگ جائے کہ جو مٹی یا کیچڑ میں لت پت ہو ، یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اس کا کندھا کسی ایسی عورت کے کندھے سے چھو جائے جو اس کے لئے حلال نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7718
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لَا تَحِلُّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی ایک شخص کے سر میں لوہے کی سوئی چھبو دی جائے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھو لے جو اس کے لئے حلال نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔