حدیث نمبر: 7703
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَعُونَةَ تَأْتِي مِنَ اللَّهِ عَلَى قَدْرِ الْمَئُونَةِ ، وَإِنَّ الصَّبْرَ يَأْتِي مِنَ اللَّهِ عَلَى قَدْرِ الْبَلَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ طَارِقُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعْ عَلَى حَدِيثِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پریشانی کے حساب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آتی ہے ، اور آزمائش کی مقدار کے حساب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر آتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طارق بن عمار ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طارق بن عمار ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7704
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ عُمَرَ أَتَى عَلَيْهِ فِي السُّوقِ ، وَهُوَ يَسُومُ بِمِرْطٍ قَالَ : مَا هَذَا يَا عَمْرُو ؟ قَالَ : مِرْطٌ اشْتَرَيْتُهُ فَأَتَصَدَّقُ بِهِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : فَأَنْتَ إِذًا ، ثُمَّ أَتَى عَلَيْهِ فَقَالَ : يَا عَمْرُو مَا صَنَعَ الْمِرْطُ ؟ قَالَ : تَصَدَّقْتُ بِهِ ، قَالَ : عَلَى مَنْ ؟ قَالَ : عَلَى سَخِيلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ قَالَ : أَلَيْسَ زَعَمْتَ أَنَّكَ تَصَدَّقْتَ بِهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ عَمْرٌو : يَا عُمَرُ لَا تَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَوَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى نَأْتِيَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ : يَا عَمْرُو لَا تَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ عَمْرٌو : أُنْشِدُكَ بِاللَّهِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ ؟ " فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَيْنَ كُنْتَ عَنْ هَذَا ؟ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَى لَهُ أَحْمَدُ : " مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بازار میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے وہ اس وقت ایک چادر کے بارے میں بھاؤ تاؤ کر رہے تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے عمرو ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ ایک چادر ہے ، جسے میں نے خریدا ہے ، اور میں اسے صدقہ کروں گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم ایسا کر لینا پھر وہ بعد میں ان کے پاس آئے ، اور دریافت کیا : اے عمرو ! اس چادر کا کیا بنا ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے اسے صدقہ کر دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کس کو ؟ انہوں نے جواب دیا : ( اپنی بیوی ) سخیلہ بنت عبیدہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ نہیں کہا: تھا کہ تم ، تو اسے صدقہ کرو گے ، تو سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان خواتین ( یعنی بیویوں ) کو تم جو بھی چیز دیتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہو گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمرو ! اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ، تو سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے اس وقت تک جدا نہیں ہوؤں گا ، جب تک ہم اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہیں جاتے ، انہوں نے کہا: اے عمرو ! تم اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ، ان لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ ان خواتین ( یعنی اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیتے ہو ، وہ تمہارے لئے صدقہ ہوتا ہے “ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اے اللہ ! جی ہاں ! اے اللہ ! جی ہاں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے آپ کو مخاطب کر کے ) کہا: میں اس کے بارے میں کہاں نا واقف تھا ؟ بازار کے بھاؤ تاؤ نے مجھے غافل رکھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے ان کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” آدمی اپنی بیوی کو جو کچھ دیتا ہے وہ صدقہ ہوتی ہے “ ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے ان کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” آدمی اپنی بیوی کو جو کچھ دیتا ہے وہ صدقہ ہوتی ہے “ ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7705
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - بِمِرْطٍ فَاسْتَغَلَّاهُ ، قَالَ : فَمَرَّ بِهِ عَلَى عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ فَاشْتَرَاهُ فَكَسَاهُ امْرَأَتَهُ سُخَيْلَةَ بِنْتَ عُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ - أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - فَقَالَ : مَا فَعَلَ الْمِرْطُ الَّذِي ابْتَعْتَ ؟ قَالَ عَمْرٌو : تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى سُخَيْلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ فَقَالَ : " إِنَّ كُلَّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ صَدَقَةٌ " قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَاكَ ، فَذَكَرَ مَا قَالَ عَمْرٌو لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " صَدَقَ عَمْرٌو كُلُّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( یہ شک بعد والے راوی کو ہے ) کا گزر ایک چادر والے شخص کے پاس سے ہوا انہیں وہ چادر مہنگی لگی پھر سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کا گزر اس کے پاس سے ہوا تو انہوں نے وہ چادر خرید لی اور انہوں نے وہ چادر اپنی بیوی سخیلہ بنت عبیدہ بن حارث بن مطلب کو پہننے کے لئے دیدی بعد میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا سیدنا عبدالرحمن کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا : تم نے جو چادر خریدی تھی اس کا کیا بنا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے وہ سخیلہ بنت عبیدہ ( یعنی اپنی بیوی ) کو صدقہ کر دی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ کرتے ہو وہ صدقہ ہوتا ہے سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، ان صاحب نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا جو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو نے ٹھیک بات کہی تھی تم اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ ( بھی بھلائی ) کرو گے وہ ان پر صدقہ ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7706
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَا يُوضَعُ فِي مِيزَانِ الْعَبْدِ نَفَقَتُهُ عَلَى أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندے کے میزان میں جو چیز سب سے پہلے رکھی جائے گی وہ اس کا اپنے اہل خانہ پر کیا ہوا خرچ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7707
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَقَى امْرَأَتَهُ مِنَ الْمَاءِ أُجِرَ " قَالَ : فَأَتَيْتُهَا فَسَقَيْتُهَا وَحَدَّثْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ ، وَهَذَا مِنْهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَاخِرِ الزَّكَاةِ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ وَالْوَلَدِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے ، تو اسے اس کا بھی اجر ملے گا “ راوی کہتے ہیں : میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور میں نے اسے پانی پلایا اور اسے وہ بات بیان کی جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی ۔
یہ روایت امام احد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور
یہ روایت ان میں سے ایک ہے ۔ اس سے پہلے کتاب الزکوۃ کے آخر میں اہل خانہ اور اولاد اور دیگر پر خرچ کرنے سے متعلق روایات گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام احد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور
یہ روایت ان میں سے ایک ہے ۔ اس سے پہلے کتاب الزکوۃ کے آخر میں اہل خانہ اور اولاد اور دیگر پر خرچ کرنے سے متعلق روایات گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 7708
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُتْبَةَ ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی کے گناہگار ہونے کے لیئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کا خرچ اس ( آدمی ) کے ذمہ ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کی موسیٰ بن عتبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اسماعیل نے اہل حجاز سے ضعیف روایات نقل کی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کی موسیٰ بن عتبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اسماعیل نے اہل حجاز سے ضعیف روایات نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 7709
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيَّ جَلْدَةَ وَنَشَاطَةَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ كَانَ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى وَلَدِهِ صِغَارًا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى أَبَوَيْنِ شَيْخَيْنِ كَبِيرَيْنِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ يَعُفُّهَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى رِيَاءً وَمُفَاخَرَةً فَهُوَ فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے میرے جسم کی مضبوطی اور چاک و چوبند ہونا دیکھا تو یہ کہا: یا رسول اللہ ! کاش یہ اللہ کی راہ میں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ اپنے کمسن بچوں کے لئے کمانے کے لئے نکلا ہے ، تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اگر یہ اپنے بوڑھے عمر رسیدہ ماں باپ کے لئے کمانے کے لئے نکلا ہے ، تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اگر یہ اپنی ذات کے لئے کمانے کے لئے نکلا ہے تاکہ یہ اپنے آپ کو مانگنے سے بچا کے رکھے ، تو یہ اللہ کی راہ میں ہے ، اور اگر یہ ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لئے نکلا ہے ، تو پھر یہ شیطان کی راہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7710
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السَّاعِي عَلَى وَالِدَيْهِ لِيَكُفَّهُمَا أَوْ يُغْنِيَهُمَا عَنِ النَّاسِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالسَّاعِي عَلَى نَفْسِهِ لِيُغْنِيَهَا أَوْ يَكُفَّهَا عَنِ النَّاسِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالسَّاعِي مُكَاثَرَةً فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ سَيِّدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ [ وَكَذَلِكَ السَّعْيُ عَنِ الْأَوْلَادِ وَالْإِخْوَةِ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے ماں باپ کے لئے کمانے والا ، تاکہ انہیں بچا کے رکھے یا انہیں لوگوں سے بے نیاز رکھے وہ اللہ کی راہ میں شمار ہوتا ہے اپنی ذات کے لئے کمانے والا تاکہ اپنے آپ کو ( لوگوں سے ) بے نیاز رکھے یا لوگوں سے ( مانگنے سے ) بچا کے رکھے وہ اللہ کی راہ میں شمار ہوتا ہے ، اور کثرت کے لئے کمانے والا شیطان کی راہ میں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن سید ہے ، اور وہ ضعیف ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ اولاد بہن بھائیوں کے لئے کمانے والا بھی اسی طرح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن سید ہے ، اور وہ ضعیف ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ اولاد بہن بھائیوں کے لئے کمانے والا بھی اسی طرح ہے ۔
حدیث نمبر: 7711
وَعَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبِي عَمْرٍو ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ فَطَلَّقَهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَا نَفَقَةَ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالحمید ابوعمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں ان صاحب نے اس خاتون کو طلاق دیدی وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے خرچ نہیں ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ( اور دوسرے راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ( اور دوسرے راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 7712
وَعَنْ عَمْرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا : لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں ، اسے ( سابقہ شوہر کی طرف سے ) رہائش اور خرچ ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 7713
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْحَامِلِ وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا ؟ فَقَالَ : كُنَّا نُنْفِقُ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے حاملہ اور بیوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : ہم اسے خرچ دیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7714
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَا نَفَقَةَ لَكِ ، وَلَا سُكْنَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی وہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں خرچ اور رہائش نہیں ملے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔