کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عورت پر شوہر کے حق کا بیان
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَا تَهْجُرَ فِرَاشَهُ ، وَأَنْ تَبَرَّ قَسَمَهُ ، وَأَنْ تُطِيعَ أَمْرَهُ ، وَأَنْ لَا تَخْرُجَ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَأَنْ لَا تُدْخِلَ عَلَيْهِ مَنْ يَكْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیوی پر شوہر کا یہ حق ہے کہ عورت اس کے بستر سے الگ نہ ہو اور اس کی قسم کو پورا کروائے ، اور اس کے حکم کی فرمانبرداری کرے اور اس کی اجازت کے بغیر ( گھر سے ) نہ نکلے اور عورت کسی ایسے شخص کو اندر نہ آنے دے جسے وہ ( یعنی شوہر ) ناپسند کرتا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن عمرو ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7674
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1258)»
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنَّ ، وَأَنْ يَتَصَدَّقْنَ وَقَالَ : " وَإِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ - وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ - وَجُلُّكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ - وَفَرَّقَ أَصَابِعَهُ - " فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَفِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی انہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور انہیں شوہروں کی اطاعت کرنے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کچھ خواتین ایسی ہیں جو جنت میں داخل ہوں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جمع کیا ( اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی ) اور تم میں سے زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو علیحدہ کیا ( اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی ) ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو اور بھلائی کے بارے میں ٹال مٹول سے کام لیتی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن رفیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7675
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3109)»
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا زَارَتْ أُخْتَهَا عَائِشَةَ وَالزُّبَيْرُ غَائِبٌ فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ رِيحَ طِيبٍ فَقَالَ : " مَا عَلَى الْمَرْأَةِ أَنْ لَا تَتَطَيَّبَ وَزَوْجُهَا غَائِبٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : وہ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لئے گئیں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے خوشبو محسوس کی ، تو ارشاد فرمایا : عورت پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر وہ اس وقت خوشبو نہ لگائے ، جب اس کا شوہر گھر میں موجود نہ ہو ( یعنی شہر سے باہر گیا ہوا ہو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7676
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 105/24)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ إِذَا حَنَّتْ عَلَى وَلَدِهَا وَأَطَاعَتْ رَبَّهَا وَأَحْصَنَتْ فَرْجَهَا إِلَّا كَهَاتَيْنِ " وَقَرَنَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں اور ایسی عورت ، جس کے رخسار زرد ہو چکے ہوں جبکہ وہ اپنی اولاد کے لئے نرم ہو اور اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرتی ہو اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو ( میں اور وہ عورت ) ان دو ( انگلیوں کی طرف جنت میں ) ہوں گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملا کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور وہ متروک ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7677
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7836)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَتِ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا جَزَاءُ عِزْوَةِ الْمَرْأَةِ ؟ قَالَ : " طَاعَةُ الزَّوْجِ وَاعْتِرَافٌ بِحَقِّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عورت کے ( شوہر کے ساتھ ) انتساب ( یا رشتے کی ) کی جزا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شوہر کی اطاعت کرنا اور اس کے حق کا اعتراف کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7678
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10703)»