کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس معاملہ کو چھپانا ، جو آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان ہوتا ہے
حدیث نمبر: 7562
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قُعُودٌ عِنْدَهُ فَقَالَ : " لَعَلَّ رَجُلًا يَقُولُ مَا يَفْعَلُ بِأَهْلِهِ . وَلَعَلَّ امْرَأَةً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا ؟ " فَأَزَمَّ الْقَوْمُ فَقُلْتُ : أَيْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ ، وَإِنَّهُنَّ لَيَفْعَلْنَ . قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانٍ لَقِيَ شَيْطَانَةً فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں آپ کے پاس کچھ مرد اور خواتین بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ جو کرتا ہے ، وہ بیان کر دیتا ہے ، اور بعض اوقات کوئی عورت اس چیز کو بیان کر دیتی ہے ، جو اس نے اپنے شوہر کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟ تو لوگ خاموش رہے ، میں نے کہا: جی ہاں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! لوگ ایسا کرتے ہیں ، اور عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسا نہ کرو ! اس کی مثال شیطان کی مانند ہے ، جو کسی شیطان مؤنث سے ملتا ہے ، اور اس کے ساتھ صحبت شروع کر دیتا ہے ، جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس کی سند حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7562
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (162/24) اخرجه احمد فى المسند (456/6)»
حدیث نمبر: 7563
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَخْلُوَ بِأَهْلِهِ يُغْلِقُ بَابًا ، ثُمَّ يُرْخِي سِتْرًا ، ثُمَّ يَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ إِذَا خَرَجَ حَدَّثَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ ، أَلَا تَخْشَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تُغْلِقَ بَابَهَا وَتُرْخِيَ سِتْرَهَا فَإِذَا قَضَتْ حَاجَتَهَا حَدَّثَتْ صَوَاحِبَهَا ؟ " فَقَالَتِ امْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ لَيَفْعَلْنَ ، وَإِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ . قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانٍ لَقِيَ شَيْطَانَةً عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ رَوْحِ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ تنہا ہو گا وہ دروازہ بند کر دے گا پھر پردہ گرا دے گا پھر اپنی خواہش پوری کر لے گا پھر وہ باہر نکل کر اپنے ساتھیوں کو اس بارے میں بتائے گا کیا تم خواتین میں سے کوئی اس بات سے ڈرتی نہیں ہے کہ اس نے دروازہ بند کر لیا تھا ، اور پردہ گرا دیا تھا ، اور جب اس نے اپنی حاجت مکمل کر لی ، تو پھر وہ اپنی ساتھی خواتین کو بتا دیتی ہے ، تو ایک عورت جس کے رخسار زرد ( یا سیاہی مائل سرخ ) تھے ، اس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! عورتیں ایسا کرتی ہیں اور مرد بھی ایسا کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو کیونکہ اس کی مثال شیطان کی مانند ہے جو کسی شیطانہ سے راستے میں ملتا ہے ، اور اس سے اپنی حاجت پوری کرتا ہے ، اور چلا جاتا ہے ، اور اسے وہیں چھوڑ دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے روح بن حاتم کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1450)»
حدیث نمبر: 7564
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشِّبَاعُ حَرَامٌ " . ¤ قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : يَعْنِي بِهِ : الَّذِي يَفْتَخِرُ بِالْجِمَاعِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ : السِّبَاعُ بِالسِّينِ الْمُهْمَلَةِ وَقِيلَ : بِالْمُعْجَمَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شباع ، حرام ہے “ ۔ ابن لہیعہ کہتے ہیں : اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ صحبت کرنے کے حوالے سے فخر کا اظہار کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ ابن اثیر کہتے ہیں : یہ لفظ ” سباع “ ہے ، جس میں ” س“ ہے ، اور ایک قول کے مطابق ، اس میں ” ش“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1396) اخرجه احمد فى المسند (11235)»