کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو مذاق میں نکاح کرتا ہے ، یا غلام آزاد کرتا ہے یا طلاق دے دیتا ہے
حدیث نمبر: 7529
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُطَلِّقُ ، ثُمَّ يُرَاجِعُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا . وَيَعْتِقُ ، ثُمَّ يُرَاجِعُ وَيَقُولُ : كُنْتُ لَاعِبًا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ) فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ طَلَّقَ أَوْ حَرَّمَ أَوْ نَكَحَ أَوْ أَنْكَحَ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ لَاعِبًا فَهُوَ جَادٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ مِنْ أَعْدَاءِ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الطَّلَاقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص طلاق دیتا تھا ، پھر رجوع کر لیتا تھا اور کہتا تھا : میں نے تو مذاق کیا تھا اسی طرح غلام آزاد کرتا تھا اور پھر رجوع کر لیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میں نے تو مذاق کیا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص طلاق دے ، یا حرام قرار دے ، یا نکاح کرے ، یا نکاح کروائے اور پھر یہ کہے : میں تو مذاق کر رہا تھا ، تو وہ سنجیدہ شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے ، اور وہ اللہ کے دشمنوں میں سے ایک ہے ، میں یہ کہتا ہوں : اس طرح کی ایک حدیث ” طلاق “ سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7529
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 7530
وَعَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ نَكَحَ لَاعِبًا أَوْ طَلَّقَ لَاعِبًا ، فَقَدْ جَازَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعْضِلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَيَأْتِي فِي الطَّلَاقِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَقَدْ مَضَى فِي الْعِتْقِ بَعْضُهَا . ¤
محمد محی الدین
عبدالکریم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” جو شخص مذاق کے طور پر نکاح کر دے ، یا مذاق کے طور پر طلاق دے ، تو یہ درست ہو گا ( یعنی ثابت شمار ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں ” معضل “ ہونا پایا جاتا ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ” طلاق “ سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اور اس نوعیت کی دیگر احادیث ” غلام آزاد کرنے “ سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7530
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (9707)»