حدیث نمبر: 7476
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْكِحُوا الْأَيَامَى ثَلَاثًا عَلَى مَا تَرَاضَى بِهِ الْأَهْلُونَ وَلَوْ قَبْضَةً مِنْ أَرَاكٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیوہ عورتوں کا نکاح کروا دو ! یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، اس چیز پر ، جس پر اس کے اہل خانہ راضی ہوتے ہیں خواہ وہ مٹھی بھر پیلو ہی کیوں نہ ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7477
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَوِّضُوهُنَّ وَلَوْ بِسَوْطٍ " - يَعْنِي فِي التَّزْوِيجِ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انہیں معاوضہ ( یعنی مہر ) دو ! خواہ وہ ایک لاٹھی ہی کیوں نہ ہو “ ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی شادی میں ایسا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7478
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : زَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا بِامْرَأَةٍ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ فَصُّهُ مِنْ فِضَّةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی شادی ایک خاتون کے ساتھ لوہے کی انگوٹھی کے عوض میں کروا دی ، جس میں چاندی لگی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7479
وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْنِي فُلَانَةً . قَالَ : " مَا مَعَكَ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ - أَوْ تُعْطِيهَا - ؟ " قَالَ : مَا مَعِي شَيْءٌ . قَالَ : " لِمَنْ هَذَا الْخَاتَمُ ؟ " قَالَ : لِي . قَالَ : " فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ " وَأَنْكَحَهَا ، وَأَنْكَحَ آخَرَ عَلَى سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَحُسَيْنٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری شادی فلاں خاتون کے ساتھ کروا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس اُسے مہر کے طور پر دینے کے لئے کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ انگوٹھی کس کی ہے ؟ اس نے عرض کی : یہ میری ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ اُسے دے دو ! آپ نے اس خاتون کے ساتھ اس شخص کی شادی کروا دی ، اسی طرح ایک اور شخص ، جس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ، آپ نے سورۃ بقرہ ( کی تعلیم ) کی شرط پر اُس کی شادی کروا دی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور حسین نامی راوی متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور حسین نامی راوی متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7480
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بَإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِي الْآخَرِ رَجَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان ( خواتین ) میں سب سے بہتر وہ ہیں ، جن کا مہر ( ادا کرنا ) سب سے زیادہ آسان ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، دوسری میں رجاء بن حارث ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، دوسری میں رجاء بن حارث ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7481
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَخَفُّ النِّسَاءِ صَدَاقًا أَعْظَمُهُنَّ بَرَكَةً ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ شِبْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ۔ ” سب سے کم مہر والی خواتین ، سب سے زیادہ برکت والی ہوتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن شبل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن شبل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7482
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرَ رَحِمَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِمَا : عَنْ عُرْوَةَ : فَأَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کی برکت میں ، یہ بات شامل ہے کہ اُسے نکاح کا پیغام دینا آسان ہو ، اس کا مہر دینا آسان ہو ، اور اس کا رحم آسان ہو ( یعنی وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے ان دونوں روایات میں یہ بات نقل کی ہے : عروہ کے حوالے سے منقول ہے ، عروہ کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : عورت کی سب سے پہلی نحوست یہ ہے کہ اس کا مہر زیادہ ہو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے ان دونوں روایات میں یہ بات نقل کی ہے : عروہ کے حوالے سے منقول ہے ، عروہ کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : عورت کی سب سے پہلی نحوست یہ ہے کہ اس کا مہر زیادہ ہو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7483
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اسْتَحَلَّ بِدِرْهَمٍ فِي النِّكَاحِ ، فَقَدِ اسْتَحَلَّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص نکاح میں ، ایک درہم کے عوض میں حلال کروا لے ( یعنی ایک درہم مہر کے طور پر ادا کرے ) تو اس نے حلال کروا لیا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7484
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُقَسِّمُ الْغَنَمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ تَقَعُ الشَّاةُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : دَعْ لِي نَصِيبَكَ أَتَزَوَّجْ بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَبْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان صدقہ کی بکریاں تقسیم کیں ، ایک بکری دو آدمیوں کے حصے میں آئی ، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم اپنا حصہ میرے لئے چھوڑ دو ! میں اس کے عوض میں شادی کر لوں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حرب بن میمون عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حرب بن میمون عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7485
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ كَانَ قِيمَتُهَا ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ وَثُلُثًا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِيمَةَ النَّوَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک خاتون کے ساتھ سونے کی ایک گٹھلی کے وزن جتنے سونے کے عوض میں شادی کی ، اُس سونے کی قیمت تین درہم اور ایک تہائی درہم تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے : تاہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے : تاہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 7486
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ . قَالَ : " فَهَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا ، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " عَلَى كَمْ ؟ " قَالَ : عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ ؟ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں نے انصار سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے اسے دیکھا ہے ؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کتنے مہر کے عوض میں کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : چار اوقیہ کے عوض میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار اوقیہ کے عوض میں ؟ یہ تو یوں ہے ، جیسے تم اس پہاڑ سے چاندی چھیل کر اتارتے ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7487
وَعَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَعِينُهُ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ قَالَ : " كَمْ أَمْهَرْتَهَا ؟ " قَالَ : مِائَتَيْ دِرْهَمٍ . قَالَ : " لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تاکہ عورت کو مہر ادا کرنے کے سلسلے میں آپ سے مدد حاصل کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے اسے کتنا مہر دینا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : دو سو درہم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم بطحان بھر کر بھی دو ، تو تم زیادہ نہیں دو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7488
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ عَلَى مَتَاعٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایسے سامان ( کے مہر ہونے ) کے عوض میں ، شادی کی تھی ، جس کی قیمت دس درہم تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7489
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ عَلَى مَتَاعِ بَيْتٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْأَزْهَرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گھر کے سامان ( کے مہر ہونے ) کی شرط پر شادی کی تھی ، جس کی قیمت دس درہم تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ازہر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ازہر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7490
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَتَاعٍ يَسْوَى أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایسے سامان کے عوض میں شادی کی تھی ، جس کی قیمت چالیس درہم بنتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7491
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ صَحْفَةٌ فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ النِّسَاءَ وَيَقُولُ : " لَكِ كَذَا وَكَذَا وَجَفْنَةُ سَعْدٍ تَدُورُ مَعِي كُلَمَّا دُرْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ روزانہ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ( کھانے کا ) ایک پیالہ بھجوایا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی خاتون کو شادی کا پیغام دیتے تھے ، تو یہ فرماتے تھے : تمہیں یہ ، یہ اور یہ ( چیزیں ) ملیں گی ، اور سعد کا پیالہ بھی ملے گا ، جو میرے ساتھ جاتا ہے ، جہاں بھی میں جاتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7492
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ حَبِيبَةَ وَأَصْدَقَ مِنْ مَالِهِ مِائَتَيْ دِينَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَرَوَّادٌ فِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ هَذَا ثِقَاتٌ ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجاشی نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کروائی تھی ، اور اپنے مال میں سے دو سو دینار ( مہر کے طور پر ) دیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک راوی اسماعیل بن علی انصاری ہے ، اس نے رواد بن جراح سے
یہ روایت نقل کی ہے ، رواد میں ضعف پایا جاتا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اسماعیل نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس روایت کی دوسری سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک راوی اسماعیل بن علی انصاری ہے ، اس نے رواد بن جراح سے
یہ روایت نقل کی ہے ، رواد میں ضعف پایا جاتا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اسماعیل نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس روایت کی دوسری سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7493
وَعَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ : أَعْتَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَعَلَ عِتْقِي صَدَاقِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ : لَا يُرْوَى عَنْ صَفِيَّةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آزاد کر دیا اور میری آزادی کو میرا مہر قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے معجم اوسط میں یہ بات نقل کی ہے : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے معجم اوسط میں یہ بات نقل کی ہے : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 7494
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ مِلْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَعَتَقَ كُلَّ أَسِيرٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا ، اور ان کی آزادی کو اُن کا مہر قرار دیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے ہر قیدی کو آزاد کر دیا ( یا بنو مصطلق کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7495
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَقُلْتُ : مَا لِي مِنْ شَيْءٍ ، فَكَيْفَ ؟! ، ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ " قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ؟ " قَالَ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : فَأَعْطِهَا ، قَالَ : فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دینا چاہا ۔ تو میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ، پھر میں کیا کروں ؟ پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی یاد آئی ، تو میں نے آپ کو شادی کا پیغام دے دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے ؟ جو میں نے تمہیں فلاں موقع پر دی تھی ، انہوں نے عرض کی : وہ میرے پاس ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہ اسے دے دو ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، تو ( زرہ ) میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7496
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : زَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ عَلَى بَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ حُطَمِيَّةٍ ، وَكَانَ سَلَّحَنِيهَا . وَقَالَ : " ابْعَثْ بِهَا إِلَيْهَا تُحَلِّلُهَا بِهَا " . فَبَعَثْتُ بِهَا إِلَيْهَا ، وَاللَّهِ مَا ثَمَنُهَا كَذَا وَكَذَا وَأَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَمُجَاهِدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دی ، جو لوہے کی بنی ہوئی حطمی زرہ کے عوض میں تھی ، وہ نبی اکرم نے ہی مجھے دی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ اس کو بھجوا دو ! تاکہ وہ اس کے عوض میں زیور بنا لے تو وہ میں نے اُن کی طرف بھجوا دی ، اللہ کی قسم ! اس کی قیمت اتنی ، اتنی اور چار سو درہم تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے مجاہد نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے مجاہد نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7497
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبِيعُ فَرَسِي أَوْ دِرْعِي ؟ قَالَ : " بِعْ دِرْعَكَ " فَبِعْتُهَا بِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ وُقِيَّةً فَكَانَ ذَلِكَ مَهْرَ فَاطِمَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ الْعَبَّاسِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں فاطمہ کے ساتھ شادی کرنے لگا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی زرہ فروخت کر دوں ، یا اپنا گھوڑا فروخت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی زرہ فروخت کر دو ! تو میں نے وہ بارہ اوقیہ کے عوض میں فروخت کر دی ، تو یہ فاطمہ کا مہر بنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عباس بن جعفر بن زید بن طلق کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، ان کے دادا سے نقل کی ہے ، میں ان حضرات سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عباس بن جعفر بن زید بن طلق کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، ان کے دادا سے نقل کی ہے ، میں ان حضرات سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7498
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ زَوَّجَ عَلِيًّا فَاطِمَةَ قَالَ : " يَا عَلِيُّ لَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تُقَدِّمَ لَهُمْ شَيْئًا " . فَقَالَ : مَا لِي شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَعْطِهَا دِرْعَكَ الْحُطَمِيَّةَ " . قَالَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ : فَقُوِّمَتِ الدِّرْعُ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کروائی ، تو آپ نے فرمایا : اے علی ! تم اپنی بیوی کے پاس اُس وقت تک نہ جانا ، جب تک اسے پہلے کوئی چیز نہیں دیتے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی حطمی زرہ اُسے دے دینا ۔ ابن ابورواد بیان کرتے ہیں : اس زرہ کی قیمت چار سو اسی درہم طے ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زنبور ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زنبور ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7499
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوہے کی زرہ کے عوض میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7500
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ بِفَاطِمَةَ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروا لی تھی ، اس سے پہلے کہ وہ انہیں کوئی چیز دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7501
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ حُرَيْثٍ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَقَالَ : لَا أُزَوِّجُكَ إِلَّا عَلَى حُكْمِي . قَالَ : لَكَ حُكْمُكَ . قَالَ : لَسْتُ بِأَخْيَرَ مِنْ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَزَوَّجَهُ عَلَى الْفَرِيضَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مغیرہ بن شبل بیان کرتے ہیں : عمر بن حریث نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو انہوں نے کہا: میں تمہاری شادی صرف اپنے فیصلے کی بنیاد پر کروں گا ، تو انہوں نے کہا: آپ کو فیصلے کا اختیار ہے ، تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں سے زیادہ بہتر نہیں ہوں ، تو انہوں نے اُن صاحب کی شادی ” فریضہ “ کے عوض میں کروا دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7502
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا إِكْثَارُكُمْ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ ، وَإِنَّمَا الصَّدُقَاتُ فِيمَا بَيْنَهُمْ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَا دُونَ ذَلِكَ . فَلَوْ كَانَ الْإِكْثَارُ فِي ذَلِكَ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ أَوْ مَكْرُمَةً لَمْ تَسْبِقُوهُمْ إِلَيْهَا فَلَا أَعْرِفَنَّ مَا زَادَ رَجُلٌ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ . قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ فَاعْتَرَضَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِمْ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ : فَأَنَّى ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : ( وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا ) فَقَالَ : اللَّهُمَّ غُفْرًا ، كُلُّ النَّاسِ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ . ¤ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ فَرَكِبَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ مَالِهِ مَا أَحَبَّ - قَالَ أَبُو يَعْلَى : قَالَ : وَأَظُنُّهُ قَالَ - فَمَنْ طَابَتْ نَفْسُهُ فَلْيَفْعَلْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! تم لوگوں نے عورتوں کے مہر کتنے زیادہ کر دیے ہیں ؟ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا معاملہ بھی تھا ، اُن حضرات کے مہر چار سو درہم یا اس سے کم ہوا کرتے تھے ، اگر مہر کا زیادہ ہونا ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کی نشانی ہوتی ، یا عزت افزائی کی نشانی ہوتی ، تو تم ان حضرات سے سبقت نہ لے جاتے ، اس لئے اب میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں ، جس نے چار سو سے زیادہ مہر دیا ہو ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ منبر سے نیچے اتر گئے ، قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ان کے سامنے آئیں اور بولیں : اے امیرالمؤمنین ! آپ نے لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا ہے ، کہ وہ چار سو درہم سے زیادہ مہر دیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! اس خاتون نے کہا: کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نازل کی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سی بات ؟ اس نے کہا: کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” اگر تم اُن میں سے کسی ایک کو ڈھیر دے دو ، تو اس میں سے کچھ بھی نہ لو ، کیا تم بہتان اور واضح گناہ کے طور پر اُسے لو گے “ ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ، ہر شخص عمر سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے دوبارہ منبر پر چڑھے اور بولے : میں نے تمہیں اس بات سے منع کیا تھا کہ عورتوں کو چار سو درہم سے زیادہ مہر نہیں دینا ہے ، اب تم میں سے جو شخص جتنا پسند کرے ، اتنا مہر دیدے ۔ ابویعلی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آدمی کو جس سے تسلی ہو ، وہ ویسا ہی کر لے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7503
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : تَزَوَّجَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ امْرَأَةً قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِمِائَةِ جَارِيَةٍ مَعَ كُلِّ جَارِيَةٍ أَلْفُ دِرْهَمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی ، راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے اس خاتون کی طرف ایک سو کنیزیں بھجوائیں ، جن میں سے ہر ایک کنیز کے پاس ایک ہزار درہم تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7504
وَعَنْ عَائِشَةَ وَمَكْحُولٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ فَهُوَ لَهَا ، وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ ، وَأَحَقُّ مَا أَكْرَمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور مکحول روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کی شرمگاہ کو جس مہر ، یا جس وعدے کے عوض میں حلال قرار دیا گیا ہو ، وہ چیز اس عورت کی ملکیت ہو گی ، اور جس چیز کے ذریعے عورت کے باپ ، یا بھائی کی عزت افزائی کی گئی ہو ، یا اس کے ولی کی عزت افزائی کی گئی ہو ، جو نکاح کا عقد ہو جانے کے بعد ہو ، تو وہ چیز اس شخص کی ملکیت ہو گی ، اور آدمی اس چیز کا سب سے زیادہ حق دار ہوتا ہے ، جس کے ذریعے اس شخص کی ، اُس کی بیٹی یا بہن کے حوالے سے عزت افزائی کی گئی ہو ، ( یعنی داماد کی طرف سے ، جو چیز اُسے تحفے کے طور پر دی گئی ہو ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔