کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آدمی کا اس عورت کو دیکھنا ، جس کے ساتھ وہ شادی کرنا چاہتا ہے
حدیث نمبر: 7455
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ ، وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّ زُهَيْرًا شَكَّ فَقَالَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ أَبِي حُمَيْدَةَ . وَالْبَزَّارُ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص کسی عورت کو شادی کا پیغام بھیجے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اگر وہ اس عورت کو دیکھ لے ، وہ اس شادی کے پیغام کے حوالے سے اسے دیکھے گا ، خواہ اس عورت کو علم نہ بھی ہو“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، تاہم زہیر نامی راوی نے شک کیا ہے کہ
یہ روایت سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، یا سیدنا ابوحمیدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، امام بزار نے اسے کسی شک کے بغیر نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، تاہم زہیر نامی راوی نے شک کیا ہے کہ
یہ روایت سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، یا سیدنا ابوحمیدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، امام بزار نے اسے کسی شک کے بغیر نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7456
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ الْعَبَّاسِ وَهِيَ فَوْقَ الْفَطِيمِ فَقَالَ : " لَئِنْ بَلَغَتْ بُنَيَّةُ الْعَبَّاسِ هَذِهِ ، وَأَنَا حَيٌّ لَأَتَزَوَّجَنَّهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : فَقُبِضَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ فَتَزَوَّجَهَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَوَلَدَتْ لَهُ رِزْقَ بْنَ الْأَسْوَدِ وَلُبَابَةَ بِنْتَ الْأَسْوَدِ سَمَّتْهَا بِاسْمِهَا أُمَّ الْفَضْلِ . ¤ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ بنت عباس رضی اللہ عنہا کو دیکھا ، جن کی عمر دودھ چھڑانے سے کچھ زیادہ تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر سیدنا عباس کی یہ صاحبزادی بالغ ہو گئی ، اور میں اس وقت زندہ ہوا ، تو میں اس کے ساتھ ضرور شادی کروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو اسود بن عبداللہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی اور اس خاتون نے اُن کے بچے رزق بن اسود ، اور لبابہ بن اسود کو جنم دیا تھا ، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے اس لڑکی کا نام اپنے نام پر ” ام فضل “ رکھا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عباس ہے اور وہ متروک ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو اسود بن عبداللہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی اور اس خاتون نے اُن کے بچے رزق بن اسود ، اور لبابہ بن اسود کو جنم دیا تھا ، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے اس لڑکی کا نام اپنے نام پر ” ام فضل “ رکھا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عباس ہے اور وہ متروک ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7457
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً بِمَكَّةَ ، وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : لَيْتَ عِنْدِي مَنْ يَرَاهَا وَمَنْ يُخْبِرُنِي عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ يُدْعَى هِيتٌ : أَنَا أَنْعَتُهَا لَكَ إِذَا أَقْبَلَتْ قُلْتَ تَمْشِي عَلَى سِتٍّ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ قُلْتَ : تَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَى هَذَا مُنْكَرًا أَرَاهُ يَعْرِفُ أَمْرَ النِّسَاءِ " . وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى سَوْدَةَ فَنَهَاهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَفَاهُ ، وَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى أَمَرَهُ عُمَرُ فَجَهِدَ ، وَكَانَ يُرَخِّصُ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے مکہ میں ایک خاتون کو شادی کا پیغام دیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے کہا: کاش کوئی اس عورت کو دیکھ کر مجھے اس عورت کے بارے میں بتا دے ، ایک شخص جس کا نام ” ہیت “ تھا ، اس نے کہا: میں اس کا حلیہ آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ، جب وہ آتی ہے ، تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چھ بل پڑتے ہیں اور جب وہ جاتی ہے ، تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں وہ چار بل کے ساتھ چلتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس چیز کو منکر سمجھتا ہوں ، اور اس شخص کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ عورتوں کے معاملے سے واقف ہے ، وہ شخص پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا جایا کرتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے منع کر دیا کہ وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئندہ آئے ، جب وہ مدینہ منورہ آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جلا وطن کروا دیا ، اور اس کا معاملہ اسی طرح رہا ، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ بھوک کا شکار ہوا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے یہ اجازت دی کہ وہ جمعہ کے دن مدینہ آیا کرے ، اور اسے صدقہ دے دیا جایا کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7458
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ فِي الْجَنَّةِ كَنْزًا ، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے علی ! تمہارے لئے جنت میں ایک خزانہ ہے ، اور تم ” ذوالقرنین “ ہو ، تم ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا ، کیونکہ تمہیں صرف پہلی ( نظر ) کی اجازت ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تمہیں دوسری ( نظر ) کی اجازت نہیں ہے “ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تمہیں دوسری ( نظر ) کی اجازت نہیں ہے “ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔