کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کفو (کفاءۃ) (نکاح میں فریقین یعنی شوہر اور بیوی کا برابری، ہمسری اور جوڑ ہونے) کا بیان
حدیث نمبر: 7445
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْعَرَبُ بَعْضُهَا أَكْفَاءُ لِبَعْضٍ وَالْمُوَالِي بَعْضُهُمْ أَكْفَاءُ لِبَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي الْجَوْنِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عرب ایک دوسرے کا کفو ہیں ، اور موالی ایک دوسرے کا کفو ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوجون ہے ، میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوجون ہے ، میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7446
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُنْكَحُ النِّسَاءُ إِلَّا مِنَ الْأَكْفَاءِ ، وَلَا يُزَوَّجُهُنَّ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ ، وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کی شادی ، صرف کفو میں کی جائے ، اور اُن کی شادیاں صرف ان کے اولیاء کریں ، اور دس درہم سے کم مہر نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7447
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَنْكِحَ نِسَاءَ الْعَرَبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( غیر عربوں ) کو اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم عربوں کی عورتوں کے ساتھ نکاح کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 7448
وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ : نُفَضِّلُكُمْ بِفَضْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الْعَرَبَ - لَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ بات منقول ہے : ” ہم تم لوگوں کو ( یعنی عربوں کو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ فضیلت کی وجہ سے فضیلت دیتے ہیں “ ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی مراد عرب لوگ تھے ( انہوں نے فرمایا : ” ہم تمہاری خواتین کے ساتھ نکاح نہیں کریں گے “ ۔ معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ، اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7449
وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ ذَهَبَ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ يَخْطُبُ [ عَلَيْهِ ] امْرَأَةً مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَدَخَلَ فَذَكَرَ فَضْلَ سَلْمَانَ وَسَابِقَتَهُ وَإِسْلَامَهُ وَذَكَرَ أَنَّهُ يَخْطُبُ إِلَيْهِمْ فَتَاتَهُمْ فُلَانَةَ فَقَالُوا : أَمَّا سَلْمَانُ فَلَا نُزَوِّجُهُ ، وَلَكِنَّا نُزَوِّجُكَ . فَتَزَوَّجَهَا ، ثُمَّ خَرَجَ . فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ كَانَ شَيْءٌ ، وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَذْكُرَ ذَلِكَ . قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ فَأَخْبَرَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ بِالْخَبَرِ فَقَالَ سَلْمَانُ : أَنَا أَحَقُّ أَنْ أَسْتَحِيَ مِنْكَ أَنْ أَخْطُبَهَا ، وَكَانَ اللَّهُ قَدْ قَضَاهَا لَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ثَابِتًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَلْمَانَ ، وَلَا مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ . ¤
محمد محی الدین
ثابت بنانی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے ، تاکہ ان کے لئے بنولیث سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو شادی کا پیغام دیں ، وہ میزبان کے گھر میں داخل ہوئے ، انہوں نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی فضیلات کا اُن کی سبقت کا ان کے اسلام کا ذکر کیا ، اور یہ بات بیان کی : وہ ان لوگوں کے ہاں فلاں خاتون کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں ، تو ان لوگوں نے کہا: جہاں تک سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو ہم ان کے ساتھ شادی نہیں کروائیں گے ، البتہ ہم آپ کے ساتھ شادی کروا دیتے ہیں تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس ( خاتون ) کے ساتھ شادی کر لی ، پھر وہ وہاں سے نکلے اور انہوں نے فرمایا : یہ ایسی صورت حال ہے کہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے شرما رہا ہوں ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیوں ؟ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں پوری صورت حال بتائی تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ مجھے آپ سے شرم آنی چاہیے کہ میں نے اس عورت کو شادی کا پیغام دیا تھا ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کے مقدر میں لکھ دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ثابت نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ثابت نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7450
وَعَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : يَا بَنِيَّ لَا تُخْرِجُنَّ بَنَاتَكُمْ إِلَّا إِلَى الْأَكْفَاءِ . قَالُوا : يَا أَبَانَا وَمَنِ الْأَكْفَاءُ ؟ قَالَ : وَلَدُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے : اے میرے بیٹو ! تم اپنی بیٹیوں کی شادیاں صرف کفو میں کرنا ، انہوں نے عرض کی : اے ہمارے ابا جان ! کفو کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی اولاد ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔