کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی عورت کے ساتھ شادی کر لیتا ہے ، پھر اس سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے اور پھر اس کی ماں سے شادی کر لیتا ہے
عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَيَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ فَسَأَلَهُ قَالَ : فَرِّقْ بَيْنَهُمَا . فَقَالَ : إِنَّهَا وَلَدَتْ . قَالَ : وَإِنْ وَلَدَتْ لَهُ عَشَرَةً فَرِّقْ بَيْنَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ایک شخص اپنی بیوی کی رخصتی کروانے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے ، تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی کے ساتھ شادی کر سکتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس شخص نے ایسی عورت کے ساتھ شادی کر لی ، اس عورت نے اس شخص کے بچے کو جنم دے دیا ، پھر وہ ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : تم ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کرواؤ ! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عورت نے تو بچے کو جنم دے دیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگرچہ اس نے دس بچوں کو جنم دیا ہو ، پھر بھی تم ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دو ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَخَّصَ فِي الصَّرْفِ ، وَفِي الرَّجُلِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَيَتَزَوَّجُ بِأُمِّهَا . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ” صرف “ کی رخصت دیتے تھے اور اس بات کی رخصت دیتے تھے کہ آدمی نے کسی عورت کے ساتھ شادی کی ہو ، اور پھر اس عورت کی رخصتی ہونے سے پہلے عورت کا انتقال ہو جائے ، تو آدمی اس کی ماں کے ساتھ شادی کر سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔