کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے اور پھر وہ اس عورت کے ساتھ شادی کر لیتا ہے ، یا اس عورت کی بیٹی ، یا اس کی ماں کے ساتھ شادی کر لیتا ہے ۔
حدیث نمبر: 7415
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الرَّجُلِ يَتْبَعُ الْمَرْأَةَ حَرَامًا أَيَنْكِحُ أُمَّهَا أَوْ يَتْبَعُ الْأُمَّ حَرَامًا أَيَنْكِحُ ابْنَتَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ إِنَّمَا يُحَرِّمُ مَا كَانَ بِنِكَاحٍ حَلَالٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جو کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرتا ہے ، کیا وہ اس عورت کی ماں کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے ؟ یا کوئی شخص ماں کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرتا ہے ، تو کیا وہ اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حرام چیز حلال کو حرام نہیں کرتی ہے ، وہ چیز حرمت کو ثابت کرتی ہے ، جو حلال نکاح کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن زہری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7415
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7416
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ قَالَا : لَا يَزَالَا زَانِيَيْنِ مَا اجْتَمَعَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالشَّعْبِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ ، وَقَدْ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : ” وہ دونوں مسلسل زنا کرنے والے رہیں گے ، جب تک وہ دونوں اکٹھے رہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کیا ہے ۔ انہوں نے
یہ روایت صحیح سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7416
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9674)»
حدیث نمبر: 7417
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ ، ثُمَّ يَنْكِحُهَا ؟ قَالَ : هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا . فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا ؟ فَقَالَ : ، ( وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ) . فَلَمْ يَزَلِ ابْنُ مَسْعُودٍ يُرَدِّدُهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَابْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے ، تو پھر وہ اس کے ساتھ شادی کر سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ دونوں جب تک اکٹھے رہیں گے ، وہ زنا کرنے والے شمار ہوں گے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ دونوں توبہ کر لیں اور نیک ہو جائیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہی وہ ( معبود ) ہے ، جو اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے اور گناہوں سے درگزر کرتا ہے ، وہ یہ جانتا ہے کہ جو تم عمل کرتے ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسلسل اس آیت کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا ، کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابن سیرین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، جو اپنی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ، اس نے
یہ روایت ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7417
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9670)»