کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین میں سے کون سی حرام ہیں ، اور اس کے علاوہ دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 7418
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : سَلُونِي ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُوا مِثْلِي وَلَنْ تَسْأَلُوا مِثْلِي ! ! فَقَالَ ابْنُ الْكَوَّا : أَخْبِرْنَا عَنِ الْأُخْتَيْنِ الْمَمْلُوكَتَيْنِ ، وَعَنْ بِنْتِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ . فَقَالَ : سَلْ عَنْ مَا يَعْنِيكَ ، فَإِنَّكَ ذَاهِبٌ فِي التِّيهِ . فَقَالَ : إِنَّمَا أَسْأَلُ عَمَّا لَا نَعْلَمُ ، فَأَمَّا مَا نَعْلَمُ فَإِنَّا لَا نَسْأَلُ عَنْهُ . قَالَ : أَمَّا الْأُخْتَانِ الْمَمْلُوكَتَانِ فَأَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ ، وَلَا آمُرُ بِهِ ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ ، وَلَا أَفْعَلُهُ أَنَا ، وَلَا أَهْلُ بَيْتِي . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوصالح بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھ سے سوال کرو کیونکہ تم مجھ جیسے شخص سے سوال نہیں کرو گے ، تم مجھ جیسے شخص سے سوال نہیں کرو گے ، تو ابن الکوا نے کہا: آپ ہمیں دو بہنوں کے بارے میں بتائیے ، جو دونوں کنیز ہوتی ہیں اور رضاعی بھائی کی بیٹی کے بارے میں بتائیے ( کہ کیا ان کے ساتھ شادی ، یا صحبت کی جا سکتی ہے ؟ ) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھ سے وہ چیز دریافت کرو ! جس کا تمہیں فائدہ ہو ، تم پیچیدہ مسائل میں جا رہے ہو ، اس نے کہا: میں آپ سے وہ سوال کر رہا ہوں ، جس کے بارے میں ، میں نہیں جانتا ہوں ، جس چیز کے بارے میں ، میں جانتا ہوں ، میں اس کے بارے میں تو سوال نہیں کر رہا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک کنیز بہنوں کا تعلق ہے ( کہ ان دونوں کے ساتھ آقا صحبت کر سکتا ہے ؟ ) تو ایک آیت اُن دونوں کو حلال کرتی ہے اور ایک آیت ان دونوں کو حرام قرار دیتی ہے ، میں اس کے بارے میں حکم بھی نہیں دوں گا اور اس سے منع بھی نہیں کروں گا ، میں خود بھی یہ نہیں کروں گا اور میرے اہل بیت میں سے بھی کوئی یہ نہیں کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار نے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7418
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (383)»
حدیث نمبر: 7419
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : وَرَاجَعَ رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ فِي جَمْعٍ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ لِي مَا مَلَكَتْ يَمِينِي . فَقَالَ : جَمَلُكَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُكَ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَكِنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دو بہنوں کو اکٹھا کرنے کے بارے میں دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے وہ چیز حلال قرار دی ہے ، جو میری ملکیت میں ہو ؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا اونٹ بھی تمہاری ملکیت ہے ( یعنی تو کیا تم اس کے ساتھ جنسی فعل کر لو گے ؟ ) ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، لیکن قتادہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7419
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7420
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ النِّسَاءِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ امْرَأَةً ، وَأَنَا أَكْرَهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ امْرَأَةً : الْأَمَةَ ، وَأُمَّهَا ، وَالْأُخْتَيْنِ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ، وَالْأَمَةَ إِذَا وَطِئَهَا أَبُوكَ ، وَالْأَمَةَ إِذَا وَطِئَهَا ابْنُكَ ، وَالْأَمَةَ إِذَا زَنَتْ ، وَالْأَمَةَ فِي عِدَّةِ غَيْرِكَ ، وَالْأَمَةَ لَهَا زَوْجٌ ، وَأَمَتَكَ مُشْرِكَةً ، وَعَمَّتَكَ وَخَالَتَكَ مِنَ الرَّضَاعَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْعِتْقِ فِيمَا يُكْرَهُ مِنْ حَبْسِ الرَّقِيقِ النَّهْيُ عَنِ الْمَجُوسِيَّاتِ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے خواتین میں سے بارہ خواتین کو حرام قرار دیا ہے اور میں ( مزید ) بارہ خواتین کو مکروہ قرار دیتا ہوں ، کنیز اور اس کی ماں ، دو کنیز ) بہنیں کہ ان دونوں کو ( صحبت کرنے میں ) اکٹھا کیا جائے ، وہ کنیز جس کے ساتھ تمہارے باپ نے صحبت کی ہو ، وہ کنیز جس کے ساتھ تمہارے بیٹے نے صحبت کی ہو ، وہ کنیز جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو ، وہ کنیز جو تمہارے علاوہ کسی اور کی عدت گزار رہی ہو ، وہ کنیز جس کا شوہر موجود ہو ، تمہاری مشرک کنیز اور تمہاری رضاعی پھوپھی اور رضاعی خالہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس سے پہلے غلام آزاد کرنے سے متعلق باب میں یہ بات ذکر ہو چکی ہے کہ جن غلاموں ( اور کنیزوں ) کو رکھنا مکروہ ہے ، ان میں مجوسی عورتوں سے منع کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7420
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9709)»