حدیث نمبر: 7405
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں شادی بھی کی تھی ، اور احرام کی حالت میں پچھنے بھی لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 7406
وَرَوَى لَهَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اُن کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جب شادی کی تھی ، آپ اس وقت حالت احرام میں تھے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7407
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيْمُونَةَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی ، تو ( اس وقت ) آپ احرام کی حالت میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7408
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُمَا حَرَامَانِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا إِحْرَامَ مَيْمُونَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، تو وہ دونوں اس وقت احرام کی حالت میں تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تا ہم اس میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے احرام میں ہونے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تا ہم اس میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے احرام میں ہونے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7409
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ ، وَهُوَ حَلَالٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی ، تو آپ اس وقت احرام کی حالت میں نہیں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مخلد واسطی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مخلد واسطی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 7410
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ ) فَهُوَ لَا حَرَجَ عَلَيْكُمْ فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ قَبْلَ الْإِحْرَامِ وَبَعْدَهُ فَأَمَّا الْإِحْرَامُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَتَزَوَّجَ أَوْ يُزَوَّجَ أَوْ يَنْحَرَ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ إِحْرَامِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْنَهُمَا مُجَاهِدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرتے ہو“ یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا کہ اگر تم خرید و فروخت احرام سے پہلے کرتے ہو یا اس کے بعد کرتے ہو ، جہاں تک احرام کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی ( احرام کے دوران ) شادی کرے ، یا شادی کروائے یا قربانی کرے ، جب تک وہ احرام سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، ان دونوں کے درمیان ایک راوی مجاہد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، ان دونوں کے درمیان ایک راوی مجاہد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7411
وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ، وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَوْ يَحُجَّ . فَقَالَ : لَا تَزَوَّجْهَا وَأَنْتَ مُحْرِمٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا ، جس کے ساتھ کوئی شادی کرنا چاہتا ہے ، اور وہ شخص مکہ سے باہر ہوتا ہے اور اس کا عمرہ یا حج کرنے کا ارادہ بھی ہوتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم اس عورت کے ساتھ احترام کی حالت میں شادی نہیں کرو گے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7412
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَنْكِحُ الْمَحْرِمُ ، وَلَا يَخْطُبُ ، وَلَا يُخْطَبُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ ، فَإِنْ كَانَ أَحْمَدَ بْنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَطِيَّةَ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِمْ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احرام والا شخص نہ نکاح کرے گا ، نہ نکاح کا پیغام دے گا ، اور نہ اُسے نکاح کا پیغام دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں أحمد بن قاسم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اگر تو یہ أحمد بن قاسم بن عطیہ ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں أحمد بن قاسم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اگر تو یہ أحمد بن قاسم بن عطیہ ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7413
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلَا يُنْكَحُ ، وَلَا يَخْطُبُ ، وَلَا يُخْطَبُ عَلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَلَا يُخْطَبُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ مَوْقُوفًا عَلَى أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَا يُخْطَبُ عَلَى نَفْسِهِ ، وَلَا مَنْ سِوَاهُ " . وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احرام والا شخص نکاح نہیں کرے گا ، اس کا نکاح نہیں کروایا جائے گا ، وہ نکاح کا پیغام نہیں دے گا ، اور اسے نکاح کا پیغام نہیں دیا جائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” نکاح کا پیغام نہیں دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ ابان بن عثمان پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اسے اس کی اپنی ذات یا اس کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے شادی کا پیغام نہیں دیا جائے گا“
امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” نکاح کا پیغام نہیں دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ ابان بن عثمان پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اسے اس کی اپنی ذات یا اس کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے شادی کا پیغام نہیں دیا جائے گا“
امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7414
وَعَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ : أَتَيْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ وَهِيَ امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ فَقُلْتُ لَهَا : أَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَقَدْ تَزَوَّجَهَا وَهُمَا حَلَالَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں : میں سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ بڑی عمر کی خاتون تھیں ، میں نے ان سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تھی ، تو وہ دونوں احرام کے بغیر تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔