حدیث نمبر: 7402
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ : لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کروانے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا گیا ہے ، اس پر ( یعنی ان دونوں ) لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن محمد اخنسی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے علی بن مدینی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منکر احادیث منقول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن محمد اخنسی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے علی بن مدینی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منکر احادیث منقول ہیں ۔
حدیث نمبر: 7403
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ مَسَّهَا فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ بِهِ أَنْ يُحِلَّهَا لِرِفَاعَةَ فَلَا تُتِمَّ لَهُ نِكَاحًا مَرَّةً أُخْرَى " . ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَقَوْلُهُ : بِنَحْوِهِ لَمْ يُذْكَرْ قَبْلَهُ مَا يُنَاسِبُهُ ، وَلَا أَدْرِي عَلَى أَيِّ شَيْءٍ عَطَفَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : پھر اس کے بعد وہ خاتون آئی اور اس نے آپ کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے مس کر لیا ہے ( یعنی اس کے ساتھ صحبت کر لی ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس بات سے منع کر دیا کہ وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف واپس جائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اگر تو اس کے ذریعے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ رفاعہ کے لئے حلال ہو جائے ، تو پھر دوسری مرتبہ تو اس کے نکاح کو پورا نہ کروانا ، اس کے بعد وہ عورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ، ان حضرات کے عہد خلافت میں آئی ، لیکن ان دونوں حضرات نے اس عورت کو منع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے ، اور ان کا یہ کہنا ان کی مانند ہے ، اس میں اس سے پہلے والی روایت کے ساتھ مناسبت کا کوئی پہلو نہیں ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس بنیاد پر یہ عطف دیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے ، اور ان کا یہ کہنا ان کی مانند ہے ، اس میں اس سے پہلے والی روایت کے ساتھ مناسبت کا کوئی پہلو نہیں ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس بنیاد پر یہ عطف دیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7404
وَعَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّ خَالِيَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَهُ مِنْ ذَلِكَ هَمٌّ وَأَمْرٌ وَشُقَّ عَلَيْهِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَهَا ، وَلَمْ يَأْمُرْنِي بِذَلِكَ ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَا إِلَّا نِكَاحَ غِبْطَةٍ إِنْ وَافَقَتْكَ أَمْسَكْتَ ، وَإِنْ كَرِهَتْ فَارَقْتَ ، وَإِلَّا فَإِنَّا نَعُدُّ هَذَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِفَاحًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نافع ، جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : اس نے کہا: میرے ماموں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ، اب وہ اس معاملے میں غمگین اور پریشان ہیں اور یہ بات اس پر گراں گزر رہی ہے ، میں نے یہ ارادہ کیا ہے ، میں اس خاتون کے ساتھ شادی کر لیتا ہوں ( پھر اسے طلاق دے کر ماموں کے لئے حلالہ کروا دوں گا ) میرے ماموں نے مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا اور انہیں اس بات کا پتہ بھی نہیں ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جی نہیں ! نکاح صرف وہ ہوتا ہے ، جو بقاء کی نیت سے ہو ، اگر وہ تمہیں موافق آ جائے ، تو تم اسے روک کے رکھو ، اور اگر وہ عورت تمہیں ناپسند ہو ، تو تم علیحدگی اختیار کر لینا ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ، اس چیز کو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زنا شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔