کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نکاح شغار کا بیان
حدیث نمبر: 7397
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اسلام میں شعار کی اجازت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے حدیث روایت کرنے کی صراحت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7398
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى عَنِ الشِّغَارِ بَيْنَ النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے درمیان شغار سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7398
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1439) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7069)»
حدیث نمبر: 7399
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الشِّغَارِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالجبار بن وائل ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7399
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1440)»
حدیث نمبر: 7400
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " قَالُوا : وَمَا الشِّغَارُ ؟ قَالَ : " نِكَاحُ الْمَرْأَةِ بِالْمَرْأَةِ لَا صَدَاقَ بَيْنَهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَالسَّنَدُ مُنْقَطِعٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام میں شغار نہیں ہے ، لوگوں نے عرض کی : شغار سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : عورت کے عوض میں عورت کے ساتھ نکاح کرنا ، یوں کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کی سند منقطع بھی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7400
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (441)»
حدیث نمبر: 7401
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ يَنْتَهِبُ " وَقَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَالشِّغَارُ : أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَتَانِ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى بِغَيْرِ صَدَاقٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو الصَّبَّاحِ عَبْدُ الْغَفُورِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو لوٹ لیتا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : اسلام میں شغار نہیں ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا شاید راوی یہ کہتے ہیں : ) شغار سے مراد یہ ہے کہ دو عورتوں کے ساتھ نکاح کیا جائے ، جن میں سے ایک کے ساتھ نکاح دوسری کے عوض میں ہو ، اور کسی مہر کے بغیر ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصباح عبدالغفور ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7401
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12008)»