کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کن خواتین کو ( نکاح میں ) جمع کرنے سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 7374
عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کے ساتھ ، اُس کی پھوپھی پر اور اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا “ ( یعنی بیوی کی بھانجی ، یا بھتیجی کے ساتھ نکاح نہیں کیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7374
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1434) اخرجه أبو يعلى فى المسند (360) اخرجه احمد فى المسند (78,77/1)»
حدیث نمبر: 7375
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7375
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6770)»
حدیث نمبر: 7376
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَنَدَ إِلَى بَيْتٍ فَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ قَالَ : " لَا يُصَلِّي أَحَدٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ ، وَلَا يُعْقَدُ مِنِ امْرَأَةٍ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَعَنِ الْجَلَّالَةِ ، وَرُكُوبِهَا وَأَكْلِ لَحْمِهَا . وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِسْنَادَ الطَّبَرَانِيِّ الْأَوَّلَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے ساتھ ٹیک لگا کر لوگوں کو وعظ شروع کیا آپ نے انہیں نصیحت کی اور ارشاد فرمایا : ” عصر کے بعد رات ہونے تک ( یعنی سورج غروب ہونے تک ) کوئی شخص نماز ادا نہ کرے اور صبح کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز ادا نہ کرے عورت اپنے محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے اور عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر ، یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے ، جلالہ ( گندگی کھانے والے جانور ) سے ، اس پر سوار ہونے سے ، اس کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے “ ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کی پہلی روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ ضعیف الحدیث ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7376
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6712)»
حدیث نمبر: 7377
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ - قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : أحمد بن اسحاق نامی راوی نے اسے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” عورت کے ساتھ ، اُس کی پھوپھی پر ، یا اس کی خالہ پر نکاح نہ کیا جائے ، اور عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے ، تاکہ اس کے پیالے میں آنے والی چیز خود حاصل کر لے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر ہم اس روایت سے صرف اسی سند سے واقف ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، منہال بن خلیفہ اور عمرو بن حارث بن ابوضرار کے درمیان اس روایت کی سند منقطع ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9801)»
حدیث نمبر: 7378
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَعَلَى خَالَتِهَا . وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ : عَنِ الصَّمَّاءِ ، وَعَنْ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ [ وَعَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْأَضْحَى ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ اللِّبْسَتَيْنِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر ، یا اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں سے بھی منع کیا ہے ، صماء اور ( دوسرا ) یہ کہ آدمی ایک کپڑے میں احتباء کے طور پر اس طرح بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو ، اور آپ نے عیدالاضحی کے دن اور عیدالفطر کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ، اور صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک ، نماز ادا کرنے سے اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک ( نماز ادا کرنے سے بھی منع کیا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں دو قسم کے لباسوں کا تذکرہ ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7379
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر ، یا اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1437) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6908)»
حدیث نمبر: 7380
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تُتَزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ آخَرُ لَا يُذْكَرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر ، اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس میں ایک اور ضعیف راوی ہے ، جس کا ذکر نہیں ہوا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7380
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7381
وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عورت کے ساتھ ، اس کی پھوپھی پر ، یا اس کی خالہ پر نکاح نہ کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7381
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (162/17)»
حدیث نمبر: 7382
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوِيَانِ لَمْ يُسَمَّيَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت اور اس کی پھوپھی کو ، یا عورت اور اس کی خالہ کو ( نکاح میں ) جمع نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں ، جن کے نام بیان نہیں کیے گئے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7382
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف