حدیث نمبر: 7355
عَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلِيَّ ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْضِعِيهِ " . فَقَالَتْ : كَيْفَ أُرْضِعُهُ ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ ؟ فَأَرْضَعَتْهُ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْجَمِيعَ رَوَوْهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلَةَ فَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْهَا أَمْ لَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوحذیفہ کا غلام سالم ، میرے ہاں آ جاتا ہے ، اس کی داڑھی آ گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے دودھ پلا دو ! اس خاتون نے عرض کی : میں اسے دودھ کیسے پلاؤں ؟ جبکہ وہ داڑھی والا ہے ، پھر اس خاتون نے اسے دودھ پلا دیا ، تو وہ صاحب اس خاتون کے ہاں آ جایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ تمام راویوں نے اسے قاسم بن محمد کے حوالے سے سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور مجھے نہیں معلوم ان صاحب نے اس خاتون سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ تمام راویوں نے اسے قاسم بن محمد کے حوالے سے سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور مجھے نہیں معلوم ان صاحب نے اس خاتون سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟ ۔
حدیث نمبر: 7356
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ مِنْ خَالٍ أَوْ عَمٍّ أَوِ ابْنِ أَخٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے ، جو نسب سے حرمت ثابت ہوتی ہے ، ماموں ، یا چچا ، یا بھانجے وغیرہ کی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7357
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے ، جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7358
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے ، جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7359
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے ، جو نسب سے حرمت ثابت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7360
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ : قِيلَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا تَحِلُّ بِنْتُ الْأَخِ ، وَلَا بِنْتُ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ابوجعفر بیان کرتے ہیں : سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : آپ وہ حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” رضاعی بھتیجی ، یا رضاعی بھانجی ( کے ساتھ شادی کرنا ) حلال نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7361
وَعَنِ النَّخَعِيِّ أَنَّ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا : يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رضاعت سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے ، خواہ وہ ( رضاعت ) تھوڑی ہو ، یا زیادہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 7362
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: ابن زبیر کا یہ کہنا ہے کہ رضاعت جو ایک چسکی یا دو چسکی کی ہو ، وہ حرمت کو ثابت نہیں کرتی ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ابن زبیر کے فیصلے سے زیادہ بہتر ہے ، رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ، برابر کی حیثیت رکھتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7363
وَعَنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ وَالْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَدْ ضَعُفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک چسکی ، یا دو چسکیاں ، ایک گھونٹ ، یا دو گھونٹ حرمت ثابت نہیں کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار طاحی ہے ، جسے ابوزرعہ ، ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ویسے یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار طاحی ہے ، جسے ابوزرعہ ، ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ویسے یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7364
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَحْرُمُ الْعَنْقَةُ " قُلْنَا : وَمَا الْعَنْقَةُ ؟ قَالَ : " الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَيَحْضَرُ اللَّبَنُ فِي ثَدْيِهَا فَتُرْضِعُ جَارَتَهَا الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقہ “ حرمت کو ثابت نہیں کرتا “ ہم نے دریافت کیا : عنقہ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو ، اُس کی چھاتی میں دودھ آ جائے اور پھر وہ پاس موجود بچی کو ایک یا دو مرتبہ پلا دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7365
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ ، وَلَا يَحْرُمُ مِنْهُ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک یا دو چسکیوں کی رضاعت ، حرمت ثابت نہیں کرتی ہے ، وہ رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے ، جو آنتوں کو کھول دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7366
وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا عَشْرَ رَضَعَاتٍ أَوْ بِضْعَ عَشْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رضاعت کے ذریعے حرمت کو اس وقت ثابت قرار دیتے تھے ، جب دس مرتبہ ، یا دس سے زیادہ مرتبہ رضاعت ہوئی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7367
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِطَامِ ، وَلَا يُتْمَ بَعْدَ حُلُمٍ ، وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ ، وَلَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دودھ چھڑا لینے کے بعد رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا ، بالغ ہو جانے کے بعد یتیمی کا حکم ثابت نہیں ہوتا ، رات تک خاموش رہنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اور نکاح کے بعد ہی طلاق دی جا سکتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطرف بن مازن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطرف بن مازن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7368
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَةً وَرِمَ ثَدْيُهَا فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ بَطْنَهُ . فَقَالَ : لَا أَرَاهَا تَصْلُحُ لَهُ . فَأَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْكَ إِنَّمَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَشَدَّ الْعَظْمَ ، وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ . فَقِيلَ لِأَبِي مُوسَى فَقَالَ : لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَقَامَ هَذَا بَيْنَ أَظْهُرِنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعطیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اس کی بیوی کی چھاتی میں ورم آ گیا ، اس نے اسے چوسنا اور گھونٹ بھرنا شروع کیا ، تو کچھ دودھ اس کے پیٹ میں چلا گیا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے اب وہ عورت تمہارے لئے درست ( یعنی حلال ) نہیں رہی ، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : وہ عورت تم پر حرام نہیں ہوئی ہے وہ رضاعت حرمت کو ثابت کرتی ہے ، جو گوشت پیدا کرتی ہے اور ہڈیاں مضبوط کرتی ہے اور دودھ چھڑا لینے کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے ، سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی گئی ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھ سے اُس وقت تک کوئی مسئلہ نہ پوچھنا ، جب تک اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے یہ ہمارے درمیان موجود ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 7369
وَعَنْ أَبِي قُعَيْسٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَكَرِهَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ جَاءَنِي أَبُو قُعَيْسٍ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . وَكَانَ أَبُو قُعَيْسٍ أَخَا ظِئْرِ عَائِشَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضَعُفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقعیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو انہیں اجازت دینا اچھا نہیں لگا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوقعیس میرے ہاں آئے تھے ، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارے ہاں آ سکتے ہیں ، وہ تمہارے چچا ہیں ، راوی کہتے ہیں : ابوقعیس ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ثقہ ہے ، ویسے وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ثقہ ہے ، ویسے وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7370
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ ؟ قَالَ : " غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ بَكَّارٍ الْبَاهِلِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کون سی چیز مجھ سے رضاعت کی مذمتہ ( یعنی اس کی وجہ سے لازم ہونے والے حق ) کو ختم کر سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک غلام یا کنیز ادا کرنا ۔
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن بکار باہلی کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن بکار باہلی کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7371
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ ؟ قَالَ : " وَصْفُ غُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی چیز مجھ سے رضاعت کی مذمتہ ( یعنی اس کی وجہ سے لازم ہونے والے حق ) کو دور کر سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک غلام ، یا کنیز ادا کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7372
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْتَرْضِعُوا الْوَرْهَاءَ " . ¤ قَالَ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ : الْوَرْهَاءُ : الْحَمْقَاءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَسْتَرْضِعُوا الْحَمْقَاءَ ، فَإِنَّ اللَّبَنَ يُوَرَّثُ " . ¤ وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احمق عورت سے دودھ نہ پلواؤ “ ۔ یونس بن حبیب کہتے ہیں : ” ورہاء “ کا مطلب احمق عورت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” احمق عورت سے دودھ نہ پلوانا ، کیونکہ دودھ کے اثرات ہوتے ہیں “ ۔ ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” احمق عورت سے دودھ نہ پلوانا ، کیونکہ دودھ کے اثرات ہوتے ہیں “ ۔ ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7373
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ رَضَاعِ الْحَمْقَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احمق عورت سے دودھ پلوانے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔