کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کرے ، جس کی اولاد نہ ہوتی ہو
حدیث نمبر: 7349
عَنْ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَصْغَى إِلَيْهِ قَالَ : أَيُّ جَيْشٍ كَانَ عِثْرَانَ . فَعَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ الْجَيْشَ فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ : مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ ؟ فَقُلْتُ : وَمَا ثَوَابُهُ ؟ قَالَ : أَوَّلُ ابْنَةٍ تُولَدُ لِي أُزَوِّجُهُ إِيَّاهَا . فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي فَلَهَوْتُ عَنْهُ سِنِينَ ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ وُلِدَ لَهُ ابْنَةٌ ، وَقَدْ بَلَغَتْ فَقُلْتُ : أَبْعِلْ إِلَيَّ أَهْلِي . فَقَالَ : لَا إِلَّا بِصَدَاقٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعْرِفُ أَيَّ النِّسَاءِ هِيَ ؟ " قُلْتُ : قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرٌ لَكَ أَنْ لَا تَأْثَمَ وَ [ لَا ] تُؤْثِمَ . دَعْهَا عَنْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ وَلَيْسَ فِيهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کردم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اس نے دریافت کیا : عثران والا لشکر کون سا تھا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کو پہچان لیا ، اس نے بتایا کہ طارق بن مرقع نے اس موقع پر مجھ سے یہ کہا: کون شخص اپنا نیزہ مجھے دے گا ، تاکہ اسے اس کا بدلہ بھی دے دیا جائے گا ، میں نے دریافت کیا : اس کا بدلہ کیا ہو گا ؟ اس نے جواب دیا : میری جو پہلی بیٹی پیدا ہو گی ، میں اس کی شادی اس شخص کے ساتھ کروا دوں گا ، تو میں نے اسے وہ نیزہ دے دیا ، پھر میں کئی سال تک اس شخص سے غافل رہا ، پھر مجھے یہ اطلاع ملی کہ اس کی بیٹی پیدا ہو گئی ہے اور وہ بالغ بھی ہو چکی ہے ، میں نے اس سے کہا: اب تم میری بیوی کی رخصتی کرواؤ ! اس نے کہا: جی نہیں ! مہر کے بغیر نہیں ہو سکتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم جانتے ہو ، وہ کون سی عورت ہے ؟ میں نے عرض کی : اس نے غربت ( یا بالوں میں سفید بال ) دیکھ لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ تم نہ خود گنہگار ہو اور نہ گنہگار کرو ، تم اس عورت کو چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں مستور راوی ہیں ، ان میں ضعف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7349
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (190/19)»