عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ ، فَإِنَّهُنَّ أَنَتَقُ أَرْحَامًا وَأَعْذَبُ أَفْوَاهًا وَأَقَلُّ حُبًّا وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَنِيزٌ السَّقَّاءُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر کنواری عورتوں سے شادی کرنا لازم ہے ، کیونکہ ان کے رحم میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ، ان کے منہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں اور خواہشات کم ہوتی ہیں ، اور یہ تھوڑے پر راضی ہو جاتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کنیز سقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کنیز سقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجُوا الْأَبْكَارَ فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا ، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا ، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کنواری عورتوں کے ساتھ شادی کرو ، کیونکہ ان کے منہ میٹھے ہوتے ہیں ، رحم میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور یہ تھوڑے سے راضی ہو جاتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا فُلَانُ تَزَوَّجْتَ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ لِي : " تَزَوَّجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " قُلْتُ : لَا بَلْ ثَيِّبًا . قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تَعَضُّهَا وَتَعَضُّكَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَ الرَّبِيعَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ ثیبہ کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری کے ساتھ کیوں نہیں ؟ کہ تم اس کو کاٹتے اور وہ تمہیں کاٹتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ربیع بن کعب بن عجرہ کے حوالے سے اُن کے والد سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ربیع کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابن حبان نے ان راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ربیع بن کعب بن عجرہ کے حوالے سے اُن کے والد سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ربیع کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابن حبان نے ان راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَتْ : وُلِدْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَوْمَ فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُنَيْنًا فَسَمَّانِي : " سَهْلَةَ " فَقَالَ : " سَهَّلَ اللَّهُ أَمْرَكِ " وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ وَزَوَّجَنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَوْمَ وُلِدْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده سہلہ بنت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں پیدا ہوئی تھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کو فتح کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام سہلہ رکھا تھا اور یہ فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے کو آسان کرے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حصہ بھی مقرر کیا تھا اور جس دن میں پیدا ہوئی تھی ، اُس دن میری شادی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ کروا دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔