مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبْكَارِ وَالصِّغَارِ . باب: کنواری اور کمسن لڑکیوں سے شادی کرنا
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا فُلَانُ تَزَوَّجْتَ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ لِي : " تَزَوَّجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " قُلْتُ : لَا بَلْ ثَيِّبًا . قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تَعَضُّهَا وَتَعَضُّكَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَ الرَّبِيعَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ ثیبہ کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری کے ساتھ کیوں نہیں ؟ کہ تم اس کو کاٹتے اور وہ تمہیں کاٹتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ربیع بن کعب بن عجرہ کے حوالے سے اُن کے والد سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ربیع کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابن حبان نے ان راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے ۔