عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي الْخِصَاءِ . قَالَ : " صُمْ وَاسْأَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے ! آپ نے فرمایا : تم روزہ رکھو ! اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَخْتَصِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِصَاءُ أُمَّتِي الصِّيَامُ وَالْقِيَامُ .
" . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ .
" . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں خصی ہو جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا خصی ہونا ، روزہ رکھنا اور نوافل ادا کرنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ تَشُقُّ عَلَيَّ هَذِهِ الْعُزْبَةُ فِي الْمَغَازِي فَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَأَخْتَصِي ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالصِّيَامِ ، فَإِنَّهَا مَخْفَرَةٌ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جنگوں کے دوران اکیلا رہنا مجھ پر گراں گزرتا ہے ، تو آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اے ابن مظعون ! تم پر روزے رکھنا لازم ہے ، کیونکہ یہ شہوت کو ختم کر دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : شَكَا رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُزُوبَةَ فَقَالَ : أَلَا أَخْتَصِي ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصَى وَاخْتَصَى ، وَلَكِنْ صُمْ وَوَفِّرْ شَعْرَ جَسَدِكَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیلے ہونے کی شکایت کی اور عرض کی : کیا میں خصی نہ ہو جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو خصی کرے یا خصی ہو جائے ، بلکہ تم روزہ رکھو اور اپنے جسم کے بال بڑھا لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى الرَّجُلَ أَنْ يَتَبَتَّلَ، وَأَنْ يُحْرَمَ وُلُوجَ بُيُوتِ الْمُؤْمِنِينَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي نَقَلْتُ مِنْهَا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي نَقَلْتُ مِنْهَا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع کرتے تھے کہ آدمی مجردر ہے ، اور اس بات سے بھی کہ اسے اہل ایمان کے گھروں میں داخل ہونے سے محروم کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، میں نے اپنے اس نسخے میں اس روایت کو اسی طرح پایا ہے ، جس طرح میں نے اسے نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، میں نے اپنے اس نسخے میں اس روایت کو اسی طرح پایا ہے ، جس طرح میں نے اسے نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ۔