وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ لَا تَزْنُوا، مَنْ سَلِمَ لَهُ شَبَابُهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قریش کے نوجوانو ! تم زنا ، نہ کرو ، جس شخص کی جوانی سلامت رہے گی ، اُسے جنت نصیب ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيَّمَا شَابٍّ تَزَوَّجَ فِي حَدَاثَةِ سِنِّهِ عَجَّ شَيْطَانُهُ : يَا وَيْلَهْ يَا وَيْلَهْ عَصَمَ مِنِّي دِينَهُ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو نوجوان کم عمری میں شادی کر لیتا ہے ، تو اُس کا شیطان چیخ کر یہ کہتا ہے : ہائے بربادی ، ہائے بربادی ، اس نے اپنے دین کو مجھ سے محفوظ کر لیا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَصَبْنَا مِنْ دُنْيَاكُمْ إِلَّا نِسَاءَكُمْ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہم نے تمہاری دنیا میں سے ، صرف خواتین کو حاصل کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم بن عبداللہ بن مطیع ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم بن عبداللہ بن مطیع ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمْسٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ : الْحَيَاءُ وَالْحِلْمُ وَالْحِجَامَةُ وَالتَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : وَاهٍ . وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَغَيْرَهُ .
قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ الْخَطَمَيِّ فِي الْحِجَامَةِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : وَاهٍ . وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَغَيْرَهُ .
قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ الْخَطَمَيِّ فِي الْحِجَامَةِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزیں ” مرسلین “ کی سنت ہیں ، حیاء ، بردباری ، پچھنے لگوانا ، عطر لگانا اور نکاح کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ واہی ہے ۔ انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث ، اور ایک اور حدیث نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر یزید خطمی کی نقل کردہ حدیث آئے گی ، جو پچھنے لگوانے کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ واہی ہے ۔ انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث ، اور ایک اور حدیث نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر یزید خطمی کی نقل کردہ حدیث آئے گی ، جو پچھنے لگوانے کے بارے میں ہے ۔