کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نکاح کی ترغیب دینا اور اس بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 7297
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَلَا جَارِيَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ ؟ " قَالَ : وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ . قَالَ : " أَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ ، لَوْ كُنْتَ مِنَ النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ ، وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ ، أَبِالشَّيَاطِينِ تَمْرُسُونَ ؟ مَا لِلشَّيَاطِينِ سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا . وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ " . قَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ : مَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَمِائَةِ عَامٍ ؛ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ اسْتَدْرَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ . وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ " . قَالَ : زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس کا نام عکاف بن بشر تمیمی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے عکاف ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کنیز بھی نہیں ہے ؟ اس نے عرض کی ! جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم بھلائی کے ساتھ خوشحال ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھلائی کے ساتھ خوشحال ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی صورت میں تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ایک ہو ، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے ، تو ان کے راہبوں میں سے ایک ہوتے ، ہماری سنت نکاح کرنا ہے اور تم میں سے برے لوگ کنوارے ہیں اور تم میں بری موت کنواروں کو آتی ہے ، کیا تم شیاطین کے راستے پر چلنا چاہتے ہو ؟ شیاطین کا کوئی ہتھیار ایسا نہیں ہے ، جو نیک لوگوں کے بارے میں ، عورتوں سے زیادہ تیز ہو ، البتہ شادی کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے ، وہ لوگ پاک اور خیانت ( یا فحاشی ) سے بری ہوتے ہیں ، اے عکاف ! تمہارا سیتاناس ہو ، یہ ( خواتین ) سیدنا ایوب علیہ السلام سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا یوسف علیہ السلام اور کرسف کی بیویاں رہی ہیں ( یا یہ حضرات بھی شادی شدہ تھے ) ۔
راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا بشر بن عطیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” کرسف“ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک شخص جو سمندر کے ایک ساحل پر تین سو سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ، وہ دن کے وقت روزہ رکھتا تھا اور رات کو نفل پڑھا کرتا تھا ، پھر اس نے ایک عورت کے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی جو عبادت کی تھی ، اسے چھوڑ دیا ، پھر اس کی کسی نیکی کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق بخشی ، اس نے توبہ کی ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے عکاف ! تمہارا ستیاناس ہو ، تم شادی کر لو ! ورنہ تم درمیان کے لوگوں میں رہو گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری شادی کروا دیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7297
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (163/5)»
حدیث نمبر: 7298
وَعَنْ عَطِيَّةَ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : جَاءَ عَكَّافُ بْنُ وَدَاعَةَ الْهِلَالِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَكَّافُ أَلَكَ زَوْجَةٌ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَلَا جَارِيَةٌ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَأَنْتَ صَحِيحٌ مُوسِرٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ؛ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ . قَالَ : " فَأَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ ، إِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنْ رُهْبَانِ النَّصَارَى فَأَنْتَ مِنْهُمْ ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنَّا . فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ ، فَإِنَّ مِنْ سُنَّتِنَا النِّكَاحَ . شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ ، وَأَرَاذِلُ أَمْوَاتِكُمْ عُزَّابُكُمْ . أَبِالشَّيَاطِينِ يَمْرُسُونَ ؟ مَا لَهُمْ فِي نَفْسِي سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ ، فَإِنَّكَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ " . قَالَ : فَقَالَ عَكَّافٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُزَوِّجَنِي مَنْ شِئْتَ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَقَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَتِهِ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عطیہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عکاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عکاف ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کنیز بھی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم تندرست اور خوشحال ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ہو ، یا تو تم عیسائیوں کے راہبوں میں ہوتے ، تو ان میں سے ایک ہوتے ، اگر تم ہم میں سے ہو گے ؟ تو تم وہ کرو ، جس طرح ہم کرتے ہیں اور ہماری سنت میں نکاح کرنا شامل ہے ، تمہارے برے لوگ کنوارے ہیں ، اور بری موت کا شکار ہونے والے کنوارے ہیں کیا وہ شیطان کی پیروی کرنا چاہتے ہیں ؟ میرے خیال میں شیاطین کا کوئی بھی ہتھیار ، نیک لوگوں کے بارے اس سے زیادہ تیز نہیں ہے ، جو مردوں اور عورتوں کا تعلق ہوتا ہے ، البتہ شادی کرنے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، وہ پاک اور خیانت ( یا فحاشی ) سے بری ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو سیدنا ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند ہے ، تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عکاف ! تمہارا ستیاناس ہو تم شادی کر لو ! کیونکہ تم درمیان کے لوگوں میں سے ہو ( یا تذبذب کا شکار لوگوں میں سے ہو ) راوی کہتے ہیں : سیدنا عکاف رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گا ، جب تک آپ جس سے چاہیں ، میری شادی نہیں کروا دیتے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں اللہ کا نام لے کر اور اس کی برکت کے ساتھ ، تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7298
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6856)»
حدیث نمبر: 7299
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَجَلِي إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَقِيتُ اللَّهَ بِزَوْجَةٍ . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگر میری زندگی کا صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو ، تو میں ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا کہ میری بیوی موجود ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمہارے برے لوگ ، تمہارے کنوارے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے ۔ اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7299
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2042)»
حدیث نمبر: 7300
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَجَلِي إِلَّا عَشْرُ لَيَالٍ لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يُفَارِقَنِي فِيهِنَّ امْرَأَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ میری زندگی کے صرف دس دن باقی رہ گئے ہیں ، تو میں اس بات کو پسند کروں گا کہ ان کے دوران میری بیوی مجھ سے جدا نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7300
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( (9172)»
حدیث نمبر: 7301
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ . وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَقُولُونَ : لَا نَتَزَوَّجُ . وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَقُلْنَ مِثْلَ ذَلِكَ . وَرَاكِبُ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ . فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ . وَقَالَ : " الْبَائِتُ وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نسوانیت ظاہر کرنے والے مردوں ، جو عورتوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں ، اور مردانگی کا اظہار کرنے والی عورتوں ، جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں ، اور مردوں میں سے کنوارے رہنے والے لوگوں ، جو یہ کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کریں گے ، اور خواتین میں سے اکیلی رہنے والی عورتوں ، جو اس کی مانند بات کہتی ہیں اور ویرانے میں تنہا سوار ( ان سب پر ) لعنت کی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ بات صحابہ کرام پر گراں گزری ، اور یہ چیز ان کے چہروں سے ظاہر ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اس سے مراد یہ ہے ) کہ جو تنہا رات گزارتا ہے ( یعنی ویرانے میں رات کے وقت تنہا سفر کرتا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن محمد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، عقیلی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7301
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7302
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعَةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَأَمَّنَتْ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ : الَّذِي يُحْصِنُ نَفْسَهُ عَنِ النِّسَاءِ وَلَا يَتَزَوَّجُ ، وَلَا يَتَسَرَّى لِأَنْ لَا يُولَدَ لَهُ [ وَلَدٌ ] ، وَالرَّجُلُ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ وَقَدْ خَلَقَهُ اللَّهُ ذَكَرًا ، وَالْمَرْأَةُ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ وَقَدْ خَلَقَهَا اللَّهُ أُنْثَى ، وَمُضَلِّلُ الْمَسَاكِينِ " . قَالَ خَالِدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ : - يَعْنِي يَهْزَأُ بِهِمْ - يَقُولُ لِلْمِسْكِينِ : هَلُمَّ أَعْطِكَ فَإِذَا جَاءَهُ [ الرَّجُلُ ] قَالَ : لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ . وَيَقُولُ لِلْمَكْفُوفِ : اتَّقِ الْبِئْرَ اتَّقِ الدَّابَّةَ، وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ . وَالرَّجُلُ يَسْأَلُ عَنْ دَارِ الْقَوْمِ فَيُرْشِدُهُ إِلَى غَيْرِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعُكْلِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار لوگ ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے عرش کے اوپر سے لعنت کی ہے اور فرشتوں نے اس پر آمین کہا: ہے ، وہ شخص جو خواتین کے حوالے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ، اور شادی نہ کرے اور کوئی کنیز نہ رکھے کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو جائے ، اور وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مرد بنایا ہے اور وہ عورت جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے عورت بنایا ہے اور مسکینوں کو گمراہ کرنے والا شخص “ ۔ خالد بن زبرقان بیان کرتے ہیں : اس سے مراد ان کا مذاق اڑانے والا شخص ہے ، جیسے وہ کسی غریب سے یہ کہے کہ تم آؤ ! تاکہ میں تمہیں کچھ دوں ، جب دوسرا شخص اس کے پاس آئے تو وہ شخص کہے : میرے پاس کچھ نہیں ہے ، یا نابینا سے یہ کہے کہ تم کنویں سے بچ کے رہو ! تم جانور سے بچ جاؤ ! حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو ، یا کوئی شخص کسی علاقے کا پتہ دریافت کرے ، تو وہ اس کی رہنمائی دوسرے راستے کی طرف کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حماد بن عبدالرحمن عکی کے حوالے سے خالد بن زبرقان سے نقل کی ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7489)»
حدیث نمبر: 7303
وَعَنْ أَبِي نَجِيحٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ مُوسِرًا لِأَنْ يَنْكِحَ ، ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْ فَلَيْسَ مِنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ حَسَنٌ ؛ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابونجیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص نکاح کرنے جتنا خوشحال ہو اور پھر وہ نکاح نہ کرے ، تو اس کا مجھ سے تعلق نہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ” مرسل “ ہے اور حسن ہے ، جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (993) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (366/22)»
حدیث نمبر: 7304
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ شَبَابٍ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الطَّوْلَ فَلْيَنْكِحْ أَوْ فَلْيَتَزَوَّجْ وَإِلَّا فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے نوجوانوں کے گروہ ! تم میں سے جو شخص یہ قدرت رکھتا ہو ، اسے نکاح کر لینا چاہیے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اسے شادی کر لینی چاہیے ، ورنہ اس پر روزہ رکھنا لازم ہے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو ختم کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1398)»
حدیث نمبر: 7305
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ سَعْدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ فِطْرَتِي فَلْيَسْتَنَّ بِسُنَّتِي وَمِنْ سُنَّتِي النِّكَاحُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِنْ كَانَ عُبَيْدُ بْنُ سَعْدٍ صَحَابِيٌّ وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبید بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے : آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری فطرت سے محبت رکھتا ہے ، اُسے میری سنت کی پیروی کرنی چاہیے اور میری سنت میں نکاح کرنا شامل ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ سیدنا عبید بن سعد رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ، لیکن
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7305
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2748)»
حدیث نمبر: 7306
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ وَمَنْ لَا فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے نوجوانوں کے گروہ ! تم میں سے جو شخص صاحب حیثیت ہو ، اسے شادی کر لینی چاہیے اور جو نہ ہو ، تو اس پر روزے رکھنا لازم ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : ” یہ چیز ( یعنی روزے رکھنا ) اس کی شہوت کو ختم کر دے گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7306
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1399)»
حدیث نمبر: 7307
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ : " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے تھے اور کنوارے رہنے سے منع کرتے تھے ، اور اس بارے میں سختی کرتے تھے ، آپ ارشاد فرماتے تھے : ” تم محبت کرنے والی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورتوں کے ساتھ شادی کرو ! کیونکہ قیامت کے دن میں دیگر انبیاء کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کا اظہار کروں گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں حفص بن عمر کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، ایک جماعت نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7307
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1400)»
حدیث نمبر: 7308
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي الِاخْتِصَاءِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَنَا بِالرَّهْبَانِيَّةِ الْحَنِيفِيَّةَ السَّمْحَةَ وَالتَّكْبِيرَ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنَّا فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے خصی ہو جانے کی اجازت دیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کی جگہ ہمیں نرم اور سیدھا دین عطا کیا ہے ، اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر ( کہنے کا حکم عطا کیا ہے ) اگر تم ہم میں سے ہو ، تو وہ کرو جو ہم کرتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7308
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5519)»
حدیث نمبر: 7309
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَزَوَّجَ ، فَقَدْ أُعْطِيَ نِصْفَ الْعِبَادَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شادی کر لے ، اُسے نصف عبادت عطا کر دی گئی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7309
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4349)»
حدیث نمبر: 7310
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَزَوُّجَ ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الْإِيمَانِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِمَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شادی کر لے ، وہ نصف ایمان مکمل کر لیتا ہے ، تو باقی نصف کے بارے میں ، اُسے اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں ایک راوی یزید رقاشی اور ایک راوی جعفر جعفی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7310
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7311
وَعَنْ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ امْرَأَةٌ - وَإِنْ كَانَ كَثِيرَ الْمَالِ - مِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ - وَإِنْ كَانَتْ كَثِيرَةَ الْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا إِنَّ أَبَا نَجِيحٍ لَا صُحْبَةَ لَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابونجیح روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسکین ، مسکین ، مسکین وہ شخص ہے ، جس کی بیوی نہ ہو ، اگرچہ اس کے پاس بہت سا مال ہو ، اور مسکنیہ ، مسکینہ ، مسکینہ وہ عورت ہے ، جس کا شوہر نہ ہو ، اگرچہ اس کا مال بہت ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابونجیح کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7311
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 7312
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ لَا تَزْنُوا احْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قریش کے نوجوانو ! تم زنا نہ کرو اور تم اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ، خبردار ! جو شخص اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا ، اسے جنت نصیب ہو گی “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7312
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1401) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2776)»
حدیث نمبر: 7313
وَفِي رِوَايَةٍ : " أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” خبردار ! جو شخص اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7313
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7314
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَزَوَّجُوا ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ شادی کرو ! کیونکہ میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کا اظہار کروں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7314
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف